جنوبی ہند کا سفر
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۷
سفر کے دوران ہمارے ساتھی برابر موبائل کے ذریعے باہر کی دنیا سے ربط قائم کئے ہوئے تھے ۔ ایک طرف دہلی کے لوگوں سے، اور دوسری طرف عمر آباد کے لوگوں سے ۔ دہلی سے عمر آباد تک ہمارے ساتھیوں کو پتہ تھا کہ اس وقت ہم کہاں ہیں ۔ یہ سفر کا ایک نیا تصور ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شکایتوں میں جیتے ہیں، وہ بظاہر انسان کے شاکی ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ خداوند ذوالجلال کی ناشکری کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اگر وہ سوچیں تو اس طرح کا سفر قدیم زمانے میں کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔ ہم لوگ دہلی میں کار سے روانہ ہوئے ۔ اس کے بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے مدراس پہنچے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کار کے ذریعے جامعہ دارالسلام جارہے ہیں۔ یہ سفر اس طرح طے ہو رہا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف اپنے دہلی کے ساتھیوں سے اور دوسری طرف جامعہ دارالسلام کے لوگوں سے پوری طرح مربوط ہیں۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا سفر کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ ایسی حالت میں ہم کو پر شکر میں جینا چاہیے، نہ کہ ناشکری میں۔ مدراس سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ 7 جون 2010 کی شام کو مغرب کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میں تھا۔ یہ ایک وسیع دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اسی مکتبہ کے ایک کمرے میں تھا۔
عمر آباد میں کا کا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اسی فارم ہاؤس میں کر رہے تھے۔ لیکن کا کا انیس احمد عمری نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہو جاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹرایکشن نہ ہوسکے گا۔ چناں چہ کا کا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیا گیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اس طرح میرے لیے ممکن ہو گیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔
ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues