عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۲
فضیلت یا ادّعا کی بات نہیں ہے۔ اس عصابہ کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں نے جو بات کہی، اس کی حیثیت صرف ایک ذمے داری کی تشخیص کی ہے۔ اس تشخیص کا تقاضا ہے کہ آپ حضرات اب مزید یقین کے ساتھ اس دعوتی غزوہ میں ہمہ تن سرگرَمِ عمل ہو جائیں۔
9 جون 2010 کے پروگرام کے بعد عصر کی نماز مسجد میں پڑھی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامعہ کے کلیہ ہال میں گئے۔ وہاں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اس کا موضوع تھا: آخرت رخی زندگی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ آخرت رخی زندگی کا فارمولا حدیث کے مطابق، یہ ہے: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنو ا (مسند الفاروق 2/618)۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے وہ زندگی جو مبنی بر حبّ عاجلہ (20: 75) ہو، یعنی صرف آج کی بنیاد پر منصوبہ بندی۔ اور دوسری زندگی ہے مبنی بر آجلہ، یعنی حیات بعد الموت کو لے کر زندگی کا نقشہ بنانا۔ اس کے بعد میں نے رسول اور اصحاب رسول کے مختلف واقعات سنائے جو آخرت رخی زندگی کے معاملے میں عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آخر میں ناظم اجتماع کی طرف سے لوگوں کو سوال و جواب کا موقع دیا گیا۔ چند منٹ تک کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور دیگر علماء کے علاوہ مولانا کا سعید احمد عمری بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ یہ خطاب اتنا زیادہ واضح اور فکر انگیز ہے کہ اس کے بعد کسی سوال کی کوئی ضرورت نہیں۔ چناں چہ یہ پروگرام سوال و جواب کے بغیر ختم ہو گیا۔ پروگرام کے بعد ہم لوگ جامعہ کے دفتر میں بیٹھ گئے اور مغرب تک وہاں غیر رسمی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔ انھوں نے کہا کہ—سادگی اور اسلام کا فطری تصور۔
میں نے کہا یہ اُس کا صرف ایک پہلو ہے۔ الرسالہ کا اصل مقصد ہے لوگوں کے اندر مثبت طرزِ فکر (positive thinking) پیدا کرنا، یعنی منفی حالات کے باوجود ہمیشہ مثبت ذہن کے تحت سوچنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues