عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱
عذاب سے نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اس حدیث میں ’’غزوہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں: عصابة تغزوا الھند (صحیح الجامع للالبانی، رقم الحدیث: 4012)۔ یہاں غزوہ سے مراد مسلح جنگ نہیں، بلکہ پُر امن دعوتی عمل ہے۔ میرے نزدیک، اس حدیث میں ہند سے مراد غالباً جنوبی ہند ہے، کیوں کہ شمالی ہند کے برعکس، جنوبی ہند میں پر امن دعوتی عمل کے حالات پوری طرح موجود ہیں۔ پھر میں نے کہا جامعہ دار السلام کے حالات معلوم ہونے کے بعد میرا احساس ہے کہ ان شاء اللہ یہی وہ ادارہ ہے جو غالباً اس پیشین گوئی کا مصداق ہے، واللہ أعلم بالصواب۔ موجودہ زمانے میں بے شمار مسلم ادارے قائم ہوئے، لیکن میرے علم کے مطابق، جامعہ دار السلام واحد ادارہ ہے جو دعوت کے تصور کے تحت قائم کیا گیا۔ جامعہ دار السلام میں دعوت کا تصور آغاز ہی سے موجود تھا۔ 1978 میں یہاں باقاعدہ ایک مستقل ادارہ خاص دعوتی مقصد کے لئے قائم کیا گیا، جس کا نام یہ ہے: معهد مقارنة الأديان۔ مولانا ریاض موسی مالاباری غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ ہندوستان کے مختلف اداروں کا دورہ کیا۔ مگر کوئی ادارہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہوا۔ اس کے بعد وہ 1997 میں جامعہ دار السلام آئے ۔ یہاں کے ذے داران فوراً ان کے ساتھ تعاون کرنے پر راضی ہوگئے ۔ چناں چہ جامعہ کے تعاون سے ’’ادارہ تعارف اسلام‘‘ کے تحت یہاں دعوتی کام ایک منظم شکل میں جاری ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ غالباً جامعہ دار السلام کے تحت کام کرنے والے دعاة کا گروپ ہی ان شاء اللہ وہ عصابہ ہے جس کی پیشگی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، واللہ أعلم بالصواب۔ خود مجھ کو یہ تجربہ ہوا کہ دعوتی کام کے لیے عملی طور پر جتنا زیادہ تعاون مجھ کو اس ادارے کے تحت حاصل ہوا، اتنا زیادہ تعاون مجھے کسی بھی دوسرے ادارے سے کبھی حاصل نہیں ہوا۔ جامعہ دار السلام آتے ہی مجھ کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ دونوں ایک دوسرے کا فطری جز تھے جو باہم مل گئے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ جامعہ دار السلام 1924 میں قائم کیا گیا، اور میری پیدائش بھی عین اسی سال ہوئی۔ آخر میں میں نے کہا کہ ’’عصابہ‘‘ کی نسبت سے جو بات میں نے کہی ہے، وہ کوئی فخر یا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues