Al-Risala · October 2010 · page 34

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴

ایک صاحب نے کہا کہ علماء سلف پر علمی تنقید تو علماء راسخین کے درمیان جاری رہی ہے، لیکن مجھے آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علماء سلف کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے زیادہ اسلاف کا اعتراف کرتا ہوں۔ آپ لوگ تو صرف فضائل بیان کرتے ہیں۔ میں نے خاص علمی اور تاریخی اعتبار سے اسلاف کے رول کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کا میں بہت زیادہ اعتراف کرتا ہوں۔ یہ پہلو یہ علوم اسلامی کی تدوین، دینی علم کا تسلسل بعد کی نسلوں میں جاری رکھنا، مصادر شریعت کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنا، وغیرہ۔ یہ سب کام بلا شبہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا کام ہے۔ اس کام کی اہمیت اس موازنہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اس قسم کے علماء اور محققین دوسرے مذاہب میں پیدا نہیں ہوئے۔ چناں چہ دوسرے مذاہب اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ ہمارے اسلاف کا کارنامہ ہے کہ دین اسلام آج پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید حالات تقریباً تین سو سال سے دنیا میں موجود ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اس دور کے علماء نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غلط اقدامات کر کے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو شدید نقصان میں مبتلا کر دیا۔ مثال کے طور پر میں علماء دیوبند کے جہاد آزادی کو ایک انحراف سمجھتا ہوں، وغیرہ۔

اس مجلس میں اور بعض دوسری مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ کاکا فیملی کے کئی افراد وہاں شریک تھے، لیکن ان کے اندر میں نے یہ انوکھی صفت پائی کہ جب کوئی سینئر شخص بولتا تھا تو فیملی کے تمام جونیئر ممبران خاموش رہ کر اس کی بات سنتے تھے۔ یہ قدیم روایت (tradition) کاکا فیملی میں اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ کا کا حامد صاحب کے یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ کمرے میں آگئے۔ یہاں صبح کا سادہ ناشتہ کیا گیا۔ یہ ناشتہ وہی تھا جو یہاں طلباء کوروزانہ دیا جاتا ہے۔ ناشتے کے وقت ہمارے ساتھ کئی علماء اور دُعاۃ موجود تھے۔ ان لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page