عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ مشن سے علماء بہت کم جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔ علماء اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اب تک الرسالہ مشن سے بہت کم جڑ سکے تھے، مگر اب خدا کے فضل سے انڈیا اور انڈیا کے باہر کے مختلف مدارس اور مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء بڑی تعداد میں الرسالہ مشن سے جڑ گئے ہیں۔ اپریل 2010 میں الرسالہ مشن کی طرف سے دہلی میں جو دعوہ میٹ (Dawah Meet) ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والے صرف علماء کی تعداد تقریباً 25 تھی۔۔ میں نے کہا کہ ذاتی ملاقاتوں، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ علماء کے درمیان الرسالہ اور اس کے تحت تیار کردہ لٹریچر بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ خاص طور پر علماء کے درمیان الرسالہ مشن کو متعارف کرنے میں میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کا بہت بڑا رول ہے۔ وہ ایک سنجیدہ اور معتدل مزاج کے آدمی ہیں۔ علماء سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انھوں نے خاموش پلاننگ کے ذریعے علماء کے تقریباً تمام حلقوں تک الرسالہ مشن کے دعوتی پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ جامعہ دارالسلام کا یہ پروگرام بھی انھیں کی بالواسطہ کوششوں کے ذریعہ ممکن ہو سکا ہے۔ 10 جون 2010 کی صبح کو دس بجے سے بارہ بجے تک لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا: عصری اسلوب میں سیرتِ رسول کا تعارف۔ اس پروگرام میں علماء اور دعاة بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
میں نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ہی ابدی مشن ہے، اور وہ دعوت ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے اس میں جو فرق ہوتا ہے، وہ صرف طرزِ خطاب اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ خود مشن کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام کا مشن اول بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ حجۃ الوداع‘ کے بعد اصحابِ رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحابِ رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کر دیا جائے اور پھر اس کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues