Al-Risala · October 2010 · page 42

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۲

معلومات اتنی زیادہ نہ ہوں گی کہ پوری تاریخ از سر نو لکھی جا سکے۔

پوری مسلم تاریخ کو اب از سر نو مرتب کرنا تو ممکن نہیں، لیکن میری یہ تمنا ہے کہ سیرت رسول کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کروں۔ اگر ایک پوری ٹیم کے ساتھ احادیث رسول کا اور دوسرے متعلق ذخائر کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو امید ہے کہ سیرت کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کی جا سکتی ہے۔ سیرت کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، وہ غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں، جب کہ سیرت کے موضوع پر صحیح کتاب وہ ہے جو دعوتی پیٹرن پر لکھی جائے۔ میں نے جزئی طور پر یہ کام کیا ہے، لیکن کلی طور پر اس کام کو انجام دینا بھی باقی ہے۔

آخر میں میں نے اپنی دو کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد عمری کو بطور تحفہ پیش کیں ـــ اللہ اکبر، پیغمبر انقلاب۔ اس کے بعد مغرب کی نماز لائبریری ہال میں جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ نماز میں تقریباً 15 علماء موجود تھے۔ اس نماز کی امامت میرے ساتھی مولانا حافظ محمد ذکوان ندوی نے کی۔ مغرب کے بعد میری قیام گاہ پر کئی علماء آگئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار استغفار کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق 70 بار، بعض روایات کے مطابق، 100 بار اور بعض روایات کے مطابق، اس سے بھی زیادہ بار آپ استغفار فرماتے تھے۔ شارحین حدیث نے اس کی تاویل میں لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ یہ عجز کا ظاہرہ تھا۔ عجز کی دریافت بلاشبہ کسی مومن کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ خدا کے تمام پیغمبر اس معاملے میں کمال کے درجے پر تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر احساس نبوت میں نہیں جیتا، بلکہ وہ احساس عبدیت میں جیتا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی انسان کے پاس جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ عجز ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ جامعہ کی مسجد میں گئے اور وہاں عشاء کی نماز با جماعت ادا کی۔ باہر ہلکی بارش ہورہی تھی، اس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں دوبارہ کچھ طلبلا اور اساتذہ اکٹھا ہوگئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page