عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۱
لیے میں نے سو سو تفسیروں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعہ کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے آیت کے فہم کی دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں : یا معلم إبراہیم، علّمنی۔
میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا گویا کہ کسی کتاب کو سمجھنے کے لیے اس کے مصنف سے کنسلط کرنا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ہر لمحہ اس کے مصنف سے کنسلط کر سکتے ہیں۔ اس کو سن کر ڈاکٹر سعید احمد عمری نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے لیے آج شاہ کلید ہاتھ آ گئی ۔ اس مجلس میں دوسرے کئی علماء موجود تھے۔ مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ امام ابن تیمیہ کی یہ بات ہم بہت پہلے سے جانتے تھے، لیکن آج آپ کی زبان سے اس کی اثر انگیز تفصیل سن کر اس کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔
ایک سوال یہ تھا کہ مسلم تاریخ جو بعد کو لکھی گئی ، وہ زیادہ تر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے ہم معنی بن گئی ہے۔ مسلم سرگرمیوں کے دوسرے پہلو مثلاً دعوت و تبلیغ کے تفصیلی واقعات اس میں شامل نہ ہو سکے۔ اب اس کمی کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے۔
میں نے کہا کہ بظاہر اب اس کی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ تاریخ (history) ناول کی طرح محض اپنے ذہن سے نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری معلومات (data) درکار ہے جو کہ عملاً موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اس ضرورت کا احساس بہت پہلے عبد الرحمن بن خلدون (وفات: 1406ء) کو ہوا تھا۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ لکھا۔ اس کے بعد انھوں نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے: العبر وديوان المبتدأ والخبر فى تاريخ العرب والعجم والبربر۔
لیکن خود ابن خلدون اپنی اس تاریخ کو اُن اصولوں کے مطابق ، نہ تیار کر سکے جس کو انھوں نے اپنے مقدمہ میں تحریر کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مقدمہ تو وہ اپنے ذہن سے لکھ سکتے تھے، لیکن ایک نئی تاریخ لکھنے کے لیے بنیادی معلومات (data) کی ضرورت تھی اور وہ موجود نہ تھیں۔ اب اگر کوئی شخص بہت زیادہ محنت کرے تو وہ مختلف ماخذ سے اس نوعیت کی کچھ معلومات حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues