Al-Risala · October 2010 · page 45

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۵

کے طور پر، اور مدرسے سے تعلیم کے مرکز کے طور پر۔ یہ مسجد اور مدرسے سے گویا کہ اسلام کا گلوبل انفراسٹرکچر (global infrastructure) ہیں ۔ ان دینی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام نے تاریخ میں اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ آج ہم کسی روک ٹوک کے بغیر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور مدارس میں ہماری اگلی نسلوں کے لیے تعلیم دین کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ ایک نہایت عظیم بات ہے جس کے لیے ہمارا سینہ شکر سے معمور ہونا چاہیے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں در بار فرعون کے رجل مومن کے بارے میں آیا ہے: یکتم إیمانه (40:28)۔ یہ ایک شخص کی بات نہیں، بلکہ ایک دور کی بات ہے۔ قدیم زمانہ کتمان ایمان کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ اظہار ایمان کا زمانہ ہے۔ یہ آزادی اصحاب رسول کے ذریعے لائے ہوئے انقلاب کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ آپ اس پر غور کریں تو آپ کے سینے میں شکر کا دریا جاری ہو جائے گا۔ اگر آپ اس انقلابی تبدیلی پر غور کریں تو شکایت کا کوئی شائبہ بھی آپ کے دل میں باقی نہ رہے۔ اس کے بعد میں نے خصوصی طور پر طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دینے اور لینے (give & take) کی دنیا ہے۔ اس دنیا کا اصول یہ ہے کہ جتنا دینا، اتنا پانا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دنیا کی مختلف سرگرمیوں میں داخل ہوں گے۔ آپ صرف ایک چیز کو اپنے سامنے رکھیے، اور وہ امتیاز (excellence) ہے۔ آپ جو کام بھی کریں، ممتاز طور پر کریں، حتی کہ اگر آپ موذن بنیں تو سب سے اچھی اذان دینے والے موذن بنیں۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: قيمة المرء ما يحسنه: The value of a person lies in excellence. نماز کے بعد ہم لوگ لائبریری کے کمرے میں واپس آگئے ۔ یہاں معتمد جامعہ مولانا کا سا سعید احمد عمری اور دوسرے اساتذہ آخری ملاقات کے لیے آگئے ۔ یہاں صبح کی چائے پینے کے بعد مدرس کے لیے روانگی ہوئی۔ مولانا سید اقبال احمد عمری، مولانا فیاض الدین عمری، مولانا اسرار الحسن خطیب عمری اور مسٹر عبدالغنی ( گل برگہ ) مدراس تک ہمارے ساتھ تھے۔ صبح کو ہم لوگ جب واپسی کے لیے عمر آباد

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page