Al-Risala · October 2010 · page 46

عشق تمام مصطفیٰ، عقل تمام بو لہب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۶

سے روانہ ہوئے تو ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ یہ ہلکی بارش مدراس تک مسلسل جاری رہی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارش انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عجیب و غریب عطیہ ہے۔ بارش اور پانی کے اتنے زیادہ فائدے ہیں کہ ان کو کسی ضخیم انسائیکلوپیڈیا میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ بارش ہمیشہ انسان کے لیے رحمتوں اور برکتوں کا نشان رہی ہے۔ یہ صرف موجودہ صنعتی زمانے کی بات ہے کہ دنیا میں وہ سنگین مسئلہ پیدا ہوا جس کو آبی کثافت (water pollution) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا مسئلہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ سمندروں کے آبی ذخائر بہت بڑے پیمانے پر آلودگی کا شکار ہو رہے ہیں۔ برفانی پہاڑوں کی صورت میں فریش واٹر کے جو منجمند ذخائر (گلیشیر) موجود تھے، وہ گلوبل وارمنگ کی بنا پر پگھل کر ختم ہو رہے ہیں، وغیرہ۔ دوپہر کے وقت ہم لوگ مدراس ایئر پورٹ پر پہنچے۔ ایئر پورٹ کی نئی تعمیر کی جارہی ہے۔ چناں چہ یہاں تعمیرات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ ہم لوگ ایئر پورٹ پر کچھ دیر بیٹھے۔ یہاں ایئر پورٹ کے عملہ کے ایک ساتھی محمد آزاد صاحب ہم لوگوں کا ای ٹکٹ لے کر گئے اور انھوں نے ہمارا بورڈنگ پاس بنوا کر ہمیں دے دیا۔ ہم لوگ 11 جون 2010 کی دوپہر کو دو بجے جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ یہ جیٹ ایئر ویز کی فلائٹ (9W 2256) تھی۔

ہوائی جہاز کا یہ طریقہ ہے کہ اُس میں مسافروں کی اِن فلائٹ ریڈنگ (inflight reading) کے لیے اخبار اور میگزین ہوتے ہیں۔ آج کے اخبار ٹائمز آف انڈیا (11 جون 2010) میں ایک خبر میکسیکو گلف (Gulf of Mexico) سے متعلق تھی۔

یہاں 20 اپریل 2010 سے تیل کے رساؤ (oil spill) کا واقعہ ہورہا ہے۔ یہاں سطح سمندر کے نیچے کثیر مقدار میں تیل پایا جاتا ہے۔ برٹش پیٹرولیم کی ٹیم یہاں عرصے سے ڈرلنگ (drilling) کا کام کر رہی ہے۔ یہ ڈرلنگ سطح آب سے ایک میل نیچے ہورہی ہے۔ کسی ٹیکنکل غلطی کی بنا پر وہاں تیل باہر نکل کر بہنے لگا۔ تیل کا یہ اخراج مسلسل جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پانچ ہزار بیرل (barrel) تیل روزانہ نکل کر سمندر کے پانی میں شامل ہورہا ہے۔ مسلسل کوشش کے باوجود اب تک اُس پر قابو نہ پایا

‹ Previous page Next page › Contents of October 2010 All issues

Printed page