Al-Risala · November 2010 · page 6

نزاعی معاملے میں فیصلے کی بنیاد

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۶

نزاعی معاملے میں فیصلے کی بنیاد

قرآن کی سورہ النساء میں ایک اجتماعی حکم بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: پس تیرے رب کی قسم، وہ کبھی ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک وہ اپنے باہمی جھگڑے میں تم کو حکم نہ مان لیں۔ پھر جو فیصلہ تم کرو، اُس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور وہ اس کو خوشی سے قبول کر لیں (65: 4)۔ قرآن کی اِس آیت کا ایک شانِ نزول بیان کیا جاتا ہے، مگر اس آیت میں ایک وقتی واقعہ کے حوالے سے ایک ابدی اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی نزاعات کا فیصلہ کس طرح کیا جائے، اجتماعی نزاعات کو کس اصول کے تحت ختم کیا جائے۔ وہ اصول یہ ہے کہ تمام متعلقہ فریق عدالت کے فیصلے کو بلا شرط مان لیں، نزاعی معاملے کو حل کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی اور قابلِ عمل صورت نہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ اجتماعی نزاعات عام طور پر باہمی گفت و شنید سے ختم نہیں ہوتے، پھر اس کو کس طرح ختم کیا جائے۔ اس کا آخری طریقہ یہ ہے کہ تمام لوگ نزاعی معاملے میں عدالت کے فیصلے کو مان لیں جو کہ قانونی طور پر ایک مسلّمۂ ادارہ (legally accepted institution) کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت ایک ایسا ادارہ ہے جو کسی سماج میں دستوری اور قانونی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر کسی سماج میں عدالت کو لوگوں کے درمیان ایک مستند حیثیت ہو جاتی ہے۔ اب نزاع کے ہر فریق کو چاہیے کہ وہ عدالت کی اس مسلّمۂ حیثیت کو مانتے ہوئے اس کے فیصلے کو بلا شرط قبول کرلے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔

کسی سماج میں نزاع کا مستقل طور پر باقی رہنا، اُس کی ترقی میں ایک رکاوٹ ہے۔ کسی سماج میں نزاع اگر دیر تک باقی رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اُس سماج میں صحت مند ماحول کا خاتمہ ہو جائے گا، جب کہ صحت مند ماحول کے بغیر تعمیر و ترقی کا کوئی کام مطلوب انداز میں ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں واحد قابلِ عمل صورت یہ ہے کہ عدالت کو قولِ فیصل کا درجہ دے دیا جائے۔ اس طریقے کا ایک مزید فائدہ یہ ہے کہ اس میں کسی فریق کا وقار مجروح نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page