عقیدہ، عملی اقدام
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۷
عقیدہ، عملی اقدام
کسی بات کو بطور عقیدہ ماننا ہو تو صرف یہ دیکھنا کافی ہوگا کہ اصولاً وہ بات درست ہے یا نہیں۔ اگر وہ بات اصولی اعتبار سے درست ہے، تو آپ کو حق ہے کہ آپ اس کو اپنا عقیدہ بنائیں۔ عقیدے کا تعلق آدمی کی اپنی ذات سے ہوتا ہے، دوسروں کی تصدیق یا موافقت اس کے لیے ضروری نہیں۔ لیکن عملی اقدام (practical step) کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ عملی اقدام کی صورت میں آپ تنہا نہیں ہوتے، بلکہ دوسرے لوگ بھی اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔ کوئی عملی اقدام کرتے ہوئے آپ کو لازماً یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کے اقدام کا نتیجہ (result) کیا ہوگا۔ اگر آپ کے اقدام کا مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا ہو تو آپ اقدام کر سکتے ہیں، لیکن اگر حالات بتاتے ہوں کہ آپ کے اقدام کا نتیجہ منفی (negative) صورت میں نکلے گا تو آپ پر فرض ہوگا کہ آپ ہرگز ایسا اقدام نہ کریں۔ ایسی حالت میں، اصول کا حوالہ دے کر اقدام کرنا، بلاشبہ باطل ہے، مذہبی شریعت میں بھی اور سیکولر شریعت میں بھی۔ عملی اقدام کی صورت میں نتیجہ (result) معیار ہے، نہ کہ اصولی طور پر اس کا درست ہونا۔
یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث رسول میں اس طرح بتائی گئی ہے: مَنْ حُسْنِ اِسْلَامِ اِلْمَرْءِ تَرْکِہ مَا لَا یَعْنِیہ (الترمذی، کتاب الزھد) یعنی آدمی کا حسن اسلام یہ ہے کہ وہ اُس عمل کو ترک کردے جو بے نتیجہ ثابت ہونے والا ہو۔
گویا کہ جس طرح عمل مطلوب ہے، اُسی طرح ترکِ عمل بھی مطلوب ہے۔ اس معاملے میں جو چیز فیصلہ کن ہے، وہ نتیجہ (result) ہے، یعنی جس عملی اقدام کا نتیجہ مثبت صورت میں نکلنے والا ہو، اس کو اختیار کیا جائے گا۔ اور جس عملی اقدام کا نتیجہ منفی صورت میں نکلنے والا ہو، اس کو ہرگز اختیار نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً یک طرفہ ہلاکت، مسائل میں مزید اضافہ، امن کی فضا کی بربادی، باہمی تعلقات کا بگاڑ، مواقع(opportunities) کا غیر استعمال شدہ حالت میں پڑارہ جانا، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues