Al-Risala · November 2010 · page 31

زمانے کی تبدیلی

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۱

زمانے کی تبدیلی

قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے بادشاہت کا سیاسی نظام قائم تھا۔ بادشاہت کے نظام میں ایک شخص کی حیثیت حاکم کی ہوتی ہے اور بقیہ تمام لوگوں کی حیثیت محکوم کی۔ اسلامی انقلاب کے بعد مسلمانوں میں سلطنت کا جو نظام قائم ہوا، وہ بھی عملاً اسی ماڈل کے مطابق تھا، یعنی شخصی اقتدار کا ماڈل۔ بعد کے مسلمانوں کا ذہن اسی لمبی تاریخ کے نتیجے میں بنا۔

اٹھارھویں صدی عیسوی کے آخر میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) آیا۔

اس کے بعد دنیا میں جمہوری نظام قائم ہوا۔ بادشاہت اور جمہوریت کے فرق کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ۔ بادشاہت کا نظام شخصی اجارہ داری کا نظام ہے، اور جمہوریت کا نظام اجتماعی حصہ داری کا نظام۔ بادشاہت کے نظام میں دئے بغیر مل سکتا تھا، لیکن جمہوریت کا نظام اس اصول پر قائم ہے کہ اگر تم اپنا حصہ لینا چاہتے ہو تو دوسروں کو بھی اُن کا حصہ ادا کرو۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ زمانے کے اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ اپنے قدیم ذہن (mindset) کے ساتھ جدید دور میں رہنا چاہتے ہیں اور ایسا ہونا ہر گز ممکن نہیں۔ اس کی ایک مثال وہ ظاہر ہ ہے جس کو مسلم جذبات کا مجروح ہونا بتایا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ اظہارِ خیال کی آزادی کا زمانہ ہے۔ مسلمان خود تو اس آزادی کو بھر پور طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن دوسروں کو وہ ان کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ جن باتوں سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، وہ دراصل آزادی کے حق کا استعمال ہوتا ہے۔ مسلمان اگر خود اپنے لیے آزادی کے حق کا استعمال چاہتے ہیں تو انھیں دوسروں کو بھی آزادی کے استعمال کا حق دینا ہوگا۔ اس معاملے میں وہ خود اپنی طرف سے کوئی شرط عائد نہیں کر سکتے۔ اس معاملے میں وہی شرط قابلِ قبول ہوگی جو عالمی اصول (international norm) کے مطابق ہو۔ مسلمان اگر اس اصول کو نہ مانیں تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ وہ ایک بے اثر احتجاجی گروہ بن کر رہ جائیں گے، جیسا کہ عملاً وہ آج بنے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page