Al-Risala · November 2010 · page 30

عجز کی دریافت

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۰

عجز کی دریافت

انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے کامل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ لیکن امتحان (test) کی مصلحت کے تحت اس کے اوپر بظاہر قدرت کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس پردے کو پھاڑے اور بظاہر عاجز نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے عجز کو دریافت کرے۔ یہ دریافت بلاشبہ سب سے بڑی دریافت ہے۔ اسی دریافت میں انسان کی تمام سعادتوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ عجز (helplessness) کی دریافت کسی انسان کے لیے اس کی عظیم ترین دریافت (greatest discovery) ہے۔ یہ دریافت اس کو ذکر و دعا کے اعلیٰ مواقع عطا کرتی ہے۔ یہ دریافت اس کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ یہ کہہ سکے کہ ــــ خدایا، تو نے انسان کو عجز کے ساتھ پیدا کیا۔ ساری قدرت تیری طرف، اور سارا عجز انسان کی طرف۔ ایسی حالت میں، تو انسان کے معاملے میں غیر جانب دار (indifferent) نہیں ہوسکتا۔ یہ تیری شانِ خداوندی کے خلاف ہے کہ تیرے اور انسان کے درمیان، عجز اور غیر جانب داری (indifference) کا تعلق ہو۔ ضروری ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان محروم (deprived) اور معطی (giver) کا تعلق ہو۔ یہی تعلق خدائے رحمان اور رحیم کی شان کے مطابق ہے۔

یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے۔ جب کوئی بندہ حقیقی معنوں میں یہ کہے کہ ــــ خدایا، تو نے مجھ کو ایک عاجز انسان کی حیثیت سے پیدا کیا تو اب تو میرے معاملے میں غیر جانب دار (indifferent) نہیں ہوسکتا۔

جب کوئی بندہ اس طرح خدا کو پکارے تو خدا کی رحمت روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر کے اس کی طرف آ جاتی ہے۔ شاعر نے جو بات مظلوم کی نسبت سے کہی تھی، وہ عاجز کی نسبت سے زیادہ درست ہے، یعنی اجابت (قبولیت) کا خود دعا کا استقبال کرنے کے لیے آ جانا: بترس از آہِ مظلوماں کہ هنگامِ دعا کردن اجابت از درِ حق بہر استقبال می آید

‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues

Printed page