معیاری نقطۂ نظر، عملی نقطۂ نظر
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴
معیاری نقطۂ نظر، عملی نقطۂ نظر
اکثر لوگ اعتدال اور توسط کی بات کرتے ہیں، مگر معروف معنوں میں، اعتدال اور توسط اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے معاملات میں صرف دو نقطۂ نظر ہیں۔ معیاری نقطۂ نظر، اور عملی نقطۂ نظر۔ جہاں تک ”معتدل نقطۂ نظر کا تعلق ہے، وہ اپنے آپ میں کوئی اصول نہیں۔ معیاری نقطۂ نظر (idealism) وہ ہے جو خالص اصول پر مبنی ہو، جو ابدی طور پر ایک ہی مستند اصول کے طور پر قائم رہے۔ مثلاً سچ بولنا ایک ابدی اصول ہے، اصول کے اعتبار سے وہ کبھی بدلنے والا نہیں۔ عملی نقطۂ نظر (pragmatism) سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں نتائج کو ملحوظ رکھا گیا ہو، جو خالص اصول پر مبنی نہ ہو، بلکہ وہ عملی پہلوؤں کی رعایت پر مبنی ہو۔
زندگی کے معاملات میں کوئی موقف اختیار کرنے کے لیے اعتدال اور توسط کوئی معیار (yardstick) نہیں ہے۔ یہ معیار صرف دو ہے۔ ایک، یہ کہ خالص اصولی طور پر جو نقطہ درست ہو، اس کو اختیار کرنا۔ یہ آئیڈیل ازم (idealism) ہے۔ خالص ذاتی معاملات میں آئیڈیل ازم پوری طرح قابلِ عمل ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں خالص ذاتی معاملہ ہو، وہاں آدمی کو وہی کرنا چاہیے جو آئیڈیل ازم کا تقاضا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں معاملہ ففٹی ففٹی ہو جاتا ہے، یعنی پچاس فی صد آدمی کی اپنی سوچ، اور پچاس فی صد دوسرے متعلق افراد کی سوچ۔ عملی نقطۂ نظر (pragmatism) کا لفظ زندگی کے دوسرے دائرے کے بارے میں بولا جاتا ہے۔
اس دوسرے دائرے کے بارے میں دانش مندی کا تقاضا ہے کہ آدمی قابل عمل اور نا قابلِ عمل کے درمیان فرق کرے ۔ حالات کے اعتبار سے جو موقف قابلِ عمل ہو، اس کو اختیار کیا جائے اور حالات کے اعتبار سے جو موقف قابل عمل نہ ہو، اس کو ترک کر دیا جائے ۔ کیوں کہ ایسی صورت میں ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ اصلاح کے بجائے فساد پیدا ہو جائے اور غیر ضروری طور پر کوئی نیا نا قابلِ حل مسئلہ وقوع میں آ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues