جدید اسلوب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
جدید اسلوب
جدید اسلوب کسی مبتد عانہ اسلوب کا نام نہیں ہے۔ یہ در اصل وہی چیز ہے جس کو دیو بند کے مشہور عالم دین مولانا قاری محمد طیب قاسمی (وفات : 1983ء) نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا تھا ۔ مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں ۔
جدید اسلوب صرف اسلوبِ کلام کی نسبت سے جدید ہوتا ہے، ورنہ جہاں تک اصل بات کا تعلق ہے، وہ اتنا ہی قدیم ہوتا ہے جتنا کہ قدیم اسلوب میں کہی ہوئی بات۔ مثال کے طور پر قرآن کی سورہ النساء میں آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں (4:34)۔ قوام کا ترجمہ عام طور پر حاکم یا محافظ (protector) جیسے الفاظ میں کیا جاتا ہے۔ جدید طبقے کو یہ بات قابل اعتراض معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنے تصورِ مساوات کے مطابق، اس کو سمجھ نہیں پاتا کہ کیوں مرد کو عورت کے اوپر قوام کا درجہ دیا جائے ۔
اس قسم کے کئی مردوں اور عورتوں سے میری گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ قوام کا مطلب وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں باس (boss) کہا جاتا ہے۔ باس ازم (bossism) کے اصول کو عملاً تمام لوگوں نے تسلیم کیا ہے۔ اسکول میں پرنسپل، یونی ورسٹی میں وائس چانسلر، کمپنی میں ڈائریکٹر، حکومت میں وزیر اعظم، وغیرہ سب کے سب اپنے ادارے کے باس ہوتے ہیں ۔
باس (boss) کے بغیر کوئی بھی تنظیم یا ادارہ کامیابی کے ساتھ چلایا نہیں جاسکتا۔ گھر بھی ایک ادارہ ہے۔ یہاں بھی ایک باس کی ضرورت ہے۔ اس گھریلو باس کو قرآن میں قوام کہا گیا ہے۔ میری اس بات کو سن کر ایسے تمام لوگ مطمئن ہو گئے ۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید اسلوب کیا ہے۔ جدید اسلوب یہ ہے کہ اصل تعلیم میں کوئی تغیر کئے بغیر نئے الفاظ کے ذریعے اس کو جدید ذہن کے لیے قابل فہم (understandable) بنایا جائے ۔ یہ ایک زمانی ضرورت ہے۔ یہ زمانی ضرورت ہر دور میں اور ہمیشہ باقی رہتی ہے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues