دریافت، دریافت، دریافت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹
سوال وجواب سوال 1 - ایک مرتبہ دہلی میں آپ کی مجلس میں میں نے یہ سوال کیا تھا کہ احادیث کے اخذ و ترک میں آپ کا کیا اصول ہے، تو آپ نے بتایا تھا کہ اس معاملے میں میرا وہی اصول ہے جو محدثین کا اصول ہے۔ موضوع روایات کے تعلق سے آپ نے یہ کہا تھا کہ اس باب میں میں علامہ ابن الجوزی کا مسلک رکھتا ہوں، یعنی سختی کے ساتھ موضوع احادیث کو ترک کرنا۔ میں نے مزید پوچھا تھا کہ کیا بطور استشہاد موضوع احادیث لی جاسکتی ہیں، تو آپ نے سختی کے ساتھ منع کیا تھا۔
یہاں پوچھنا یہ ہے کہ آپ نے جامعہ دارالسلام، عمر آباد کے حالیہ دورہ (جون 2010) میں ایک دن ’’معرفت الہیہ‘‘ کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے اس جملہ سے بات شروع کی تھی: کنت كنزاً مخفيّاً فأحببت أن أعرف ۔ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، مگر اس کی اصل قرآن میں موجود ہے: وما خلقت الجنّ والإنس إلا ليعبدون (51:56) أي ليعرفوني ۔ مجھے پہلے سے یہ علم تھا کہ یہ موضوع حدیث ہے، پھر میں نے آپ کی زبانی سنا تو دوبارہ اس کی تحقیق کی۔ تحقیق کے بعد جو بات میرے سامنے آئی ہے، اس کو یہاں میں بلاکم و کاست ذکر کردیتا ہوں :
كنت كنزاً لا أعرف فأحببت أن أعرف فخلقت خلقاً فعرفتهم بي فعرفوني۔
قال ابن تيميه: إنه ليس من كلام النبي صلى الله عليه وسلم، ولا يعرف له سند صحيح ولا ضعيف وتبعه الزركشي وشيخنا ابن حجر) قاله السخاوى في كتابه المقاصد الحسنة 1/174؛ سلسلة الأحاديث الضعيفة للألباني (1/156): حديث لا أصل له؛ تذكرة الموضوعات للفتنی (1/11)۔ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کی کوئی سند ہی نہیں ہے جس بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف ۔ اس لیے اس میدان کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ موضوع حدیث ہے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ اس حدیث کی کوئی اور بھی
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues