دریافت، دریافت، دریافت
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰
قابلِ قبول سند ہے۔ اگر ہے تو معلوم کرائیے۔ ہو سکتا ہے آپ کثیر المطالعہ ہیں، کہیں آپ کی نظر سے یہ حدیث مقبول سند کے ساتھ گزری ہو۔ بڑی مہربانی ہوگی اگر معلوم کرادیں، یا اگر آپ کا مدعا سمجھنے میں غلطی ہوئی ہو تو اس کی بھی وضاحت کردیں۔
2- دوسری بات یہ پوچھنی ہے کہ آپ نے اپنی تفسیر تذکیر القرآن، سورہ اعراف آیت نمبر 166 میں یہود کے متعلق یہ لکھا ہے کہ ’’اللہ نے ان کو بندر بنادیا‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی صورت بندروں کی صورت ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اخلاق بندروں جیسا ہوگیا، ان کا دل اور ان کی سوچ انسانوں کے بجائے بندر جیسی ہوگئی (تذکیر القرآن، صفحہ 417)۔ یہاں پر یہ پوچھنا ہے کہ یہ لوگ حیلہ جوئی کرکے حرام چیز کو حلال کرنے میں لگے ہوئے تھے اور حیلہ جوئی یا حرام چیز کو حلال کرنا کوئی انسانیت کا کام نہیں۔ ایسی گری ہوئی حرکت وہی انجام دیتے ہیں جن کا ضمیر مر چکا ہو، جو بے حس ہوچکے ہوں اور یہ چیز خود بد اخلاقی کے دائرے میں آتی ہے۔ پھر ان کے اخلاق کا خراب ہو جانا کیا مطلب رکھتا ہے۔ برائے مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں۔
آپ اکثر یہ ذکر کرتے رہتے ہیں کہ تقریر ہو یا تحریر یا کوئی بھی بحث، ہمارا انداز ’’علمی‘‘ نہیں ہوا کرتا ہے۔ ’’علمی انداز‘‘ کیا چیز ہے۔ گزارش ہے کہ وہ ’’علمی انداز‘‘ کیا ہے، اس کی وضاحت فرمائیں، تاکہ ہم اس بنیاد پر اپنی تقریر و تحریر اور بحث و گفتگو کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اچھے سے اچھا بدلہ عطا فرمائے۔ (ف رہاد احمد سلفی، عمر آباد، تمل ناڈو)
جواب
1- ’’کنْـتُ کـنـزاً مخفیًا‘‘ کے مذکورہ قول کے متعلق میرا خیال ہے کہ اگرچہ بظاہر وہ حدیث قدسی کی زبان میں ہے، لیکن وہ سورہ الذاریات کی آیت 56 کی تشریح کے طور پر ہے اور آیت کی تشریح کی حیثیت سے وہ عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے مطابق ہے۔ میں ذاتی طور پر اس قول کو حدیث قدسی نہیں مانتا، البتہ اس کو میں ایک صحیح تشریحی قول مانتا ہوں۔ جن علماء نے اس قول پر نکیر کی ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اس کے اسلوب کو دیکھا جو حدیث قدسی کے انداز میں ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2010 All issues