دورِ زوال کا ظاہرہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۶
دورِ زوال کا ظاہرہ
قرآن کی سورہ الحشر میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: ولا تكونوا كالبذين نسوا الله فأنساهم أنفسهم، أولئك هم الفاسقون (19 : 59) یعنی تم اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنھوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے بھلا دئے اُن کو خود اُن کے نفس ۔ یہی لوگ ہیں نافرمان :
(Believers! ) Do not be like those who forgot God, so that He caused them to forget themselves. اس آیت میں اُس قانون کو بیان کیا گیا ہے جو اہل کتاب گروہ سے متعلق ہے۔ اس میں اہلِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم یہود جیسے نہ ہو جانا، ورنہ تمھارا انجام بھی یہود جیسا ہوگا، یعنی خدا کے احکام سے غفلت کے نتیجے میں خود اپنے بارے میں فراموشی میں مبتلا ہو جانا۔ اس آیت میں مخصوص قرآنی اسلوب میں اُس واقعے کو بتایا گیا ہے جس کو دوسرے الفاظ میں زوال (degeneration) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جب کوئی اہل کتاب گروہ اپنے بعد کے زمانے میں زوال کا شکار ہوتا ہے تو اُس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ حقیقی دینی اسپرٹ سے خالی ہو جاتا ہے۔ ابتدائی دور میں اس کا دین خوفِ خدا پر مبنی ہوتا ہے، لیکن دورِ زوال میں اس کا دین عملاً قومی فخر (pride) کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جس معاملے کا ذکر ہے، وہ دورِ زوال میں پیدا ہونے والے اِسی قومی فخر کا معاملہ ہے۔
ایک سیکولر گروہ کی قومی پالیسی عقل (reason) پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ اہل کتاب کی پالیسی قومی فخر پر۔ فخر کی اِس نفسیات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا گروہ عقلی غور و فکر اور حقیقت پسندانہ مزاج سے محروم ہو جاتا ہے۔ عام سیکولر گروہ اپنی عقلیت کی بنا پر اپنی دنیا کو درست کر سکتا ہے، لیکن زوال یافتہ اہل کتاب اپنے فخر پسندی کے مزاج کی بنا پر اپنی دنیا کے بارے میں بھی صحیح رویئے سے محروم ہو جاتے ہیں اور نتیجہ وہ خَسِرَ الدنيا والآخرة کا مصداق بن جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues