سیکنڈری رول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۷
سیکنڈری رول
قرآن کی سورہ الزخرف میں فطرت کا ایک قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات، ليخذ بعضهم بعضاً سخرياً (43: 32) یعنی ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں۔
قرآن کی اس آیت میں سادہ طور پر طبقاتی تفاوت یا طبقاتی امتیاز کی بات نہیں کی گئی ہے، بلکہ اس آیت میں طبقاتی حکمت کی بات کہی گئی ہے۔ اس دنیا میں کوئی بڑا کام صرف اجتماعی کوشش سے ہوسکتا ہے، اور اجتماعی کوشش مفید طور پر صرف اُس وقت وجود میں آتی ہے، جب کہ افرادِ اجتماع کسی ایک شخص کو اپنا لیڈر بنانے پر پوری طرح راضی ہو جائیں۔ اجتماعی کوشش نام ہے لیڈر کا ماتحت بن کر کوشش کرنے کا۔ جو لوگ اس اصول پر راضی نہ ہوں، وہ کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔ قرآن کی اس آیت سے سیکنڈری رول (secondary role) کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اگر ایک سو آدمیوں کا اجتماع ہے تو اس میں 99 لوگوں کو سیکنڈری رول پر راضی ہونا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص لیڈر بن کر اپنا قائدانہ رول ادا کر سکے۔ اس اصول کا مظاہرہ روزانہ نماز باجماعت کی شکل میں کیا جاتا ہے۔ نماز باجماعت یہ پیغام دیتی ہے کہ اپنے میں سے ایک شخص کو آگے کھڑا کر کے سب کے سب بیک سیٹ (back seat) پر چلے جاؤ، ایک شخص کو امام بنا کر سب کے سب اس کے مقتدی بننے پر راضی ہو جاؤ۔
سیکنڈری رول کا معاملہ صرف ایک عملی بندوبست کا معاملہ ہے۔ جہاں تک اہمیت کی بات ہے، سیکنڈری رول کی اہمیت قائدانہ رول سے بھی زیادہ ہے۔ قائدانہ رول ادا کرنے والے کو اگر ایک کریڈٹ ملے گا تو سیکنڈری رول ادا کرنے والے کو ڈبل کریڈٹ دیا جائے گا۔ کیوں کہ سیکنڈری رول ادا کرنے والا شخص، اپنا رول ادا کرنے کے ساتھ مزید یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی انا کو قربان کر دیتا ہے۔ انا کی قربانی کے بغیر سیکنڈری رول کی ادائیگی ممکن نہیں، اور انا کی قربانی بلا شبہ تمام قربانیوں میں سب سے بڑی قربانی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues