ذکرِ کثیر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰
ذکرِ کثیر
مچھلی پانی سے باہر خشکی میں ہو تو وہ مسلسل تڑپتی ہے۔ یہ تڑپنا اس کی حالتِ فطری کا ایک خود بخود اظہار ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ذکرِ کثیر کا ہے۔ ذکرِ کثیر در اصل تجربۂ کثیر کے ایک اظہار کا نام ہے۔ مچھلی کی مثال میں یہ اظہار مجبورانہ تجربہ کے تحت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، مومن کی زندگی میں یہ اظہار ایک تجربہ کی شعوری دریافت کی صورت میں پیش آتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان اپنے خالق کے مقابلے میں کامل طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ انسان کی بے شمار ضرورتیں ہیں۔ ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وہ ہر لمحہ خدا کی مدد کا محتاج ہوتا ہے۔ خدا کے مقابلے میں اس حیثیتِ عجز کی دریافت کے بعد فطری طور پر انسان ہر لمحہ خدا کی یاد میں جینے لگتا ہے۔ اسی کا نام ذکرِ کثیر ہے، یعنی ایک مسلسل تجربہ کا ایک مسلسل یاد میں ڈھل جانا۔ ذکر کسی قسم کے لفظی تکرار کا نام نہیں، ذکر ایک مسلسل احساس کا مسلسل اظہار ہے۔
اگر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا چبھ جائے تو اس کے بعد وہ ہر لمحہ اس کے درد کو محسوس کرتا رہے گا۔ اسی طرح انسان کو ہر لمحہ خدا کی کسی نہ کسی رحمت کا تجربہ ہوتا ہے۔ صبح و شام کا کوئی لمحہ بھی ان تجربوں سے خالی نہیں ہوتا۔ جس آدمی کو خدا کی شعوری معرفت حاصل ہو جائے، وہ ہر لمحہ ان ربانی تجربات کو محسوس کرتا رہے گا۔ یہ تجربہ ہر لمحہ خدا کی یاد میں ڈھلنے لگے گا۔ وہ اُسی کو لے کر سوچے گا، اسی کے مطابق احساسات اس کے اندر ابھریں گے، یہی تجربات اس کی زبان سے الفاظ بن کر ظاہر ہو رہے ہوں گے۔ خدا کی اسی دوامی یاد کا نام ذکرِ کثیر ہے۔
جس آدمی کو ذکرِ کثیر کی توفیق حاصل ہو جائے، اس کو وہ سب سے بڑی چیز حاصل ہوگئی جو اس قابل ہے کہ اس دنیا میں آنے والا انسان اُس کو پائے اور ہر لمحہ وہ اپنے منعم کی یاد میں جینے لگے۔ خدا کی یادوں میں جینے والا انسان اپنے محسن کی یادوں میں جینے والا انسان ہے، اور کسی انسان کا سب سے بڑا شرف یہی ہے کہ وہ اپنے محسنِ حقیقی کی یادوں میں جینے والا انسان بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues