حج کے بعد
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۹
عرفات کے میدان میں اکٹھا ہوئے۔ یہاں آپ نے اونٹ پر بیٹھ کر ایک خطبہ دیا۔ یہ خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبہ میں آپ نے اپنے اصحاب (معاصر اہلِ ایمان) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: إِنَّ اللهَ بعثنى كافَّةً للناس فَأَدُّوا عني (اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے، تم میری طرف سے اس کو تمام لوگوں تک پہنچادو)۔
اس کے بعد جو ہوا وہ یہ تھا کہ راوی کے بیان کے مطابق، جس صحابی رسول کی سواری جس رخ پر کھڑی ہوئی تھی، اُسی رخ پر وہ روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد تمام لوگ دعوت الی اللہ کے پیغمبرانہ کام میں لگ گئے۔ انھوں نے اس وقت کی آباد دنیا کے بڑے حصہ میں دین کا پیغام پہنچادیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا خاتمہ دراصل ایک نئے عمل کا آغاز ہے۔ جہاں حج کے مراسم ختم ہوتے ہیں، وہاں سے ایک اور زیادہ بڑا حج شروع ہوجاتا ہے۔ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ گویا کہ حج ایک ٹریننگ ہے اور دعوت الی اللہ اس ٹریننگ کا عملی استعمال۔
ایک حدیث کے مطابق، حج کے مراسم حضرت ابراہیم کی زندگی کے مختلف مراحل کا علامتی اعادہ ہیں۔ حضرت ابراہیم کی پوری زندگی دعوت الی اللہ کی زندگی تھی۔ یہی طریقہ ہر مومن کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ مثلاً احرام کیا ہے۔ وہ سادہ زندگی کی علامت ہے۔ طواف سے مراد ڈیڈیکیشن (dedication) ہے۔ سعی اس بات کا پیغام ہے کہ مومن کی دوڑ دھوپ خدا کی طرف ہونی چاہیے۔ جانور کا ذبیحہ قربانی والی زندگی کی تعلیم ہے۔ رمی جمرات کا مطلب یہ ہے کہ آدمی شیطان کو اپنے آپ سے دور بھگائے۔ لبیک کہتے ہوئے عرفات کے میدان میں پہنچنا خدا کے سامنے حاضری کو یاد دلاتا ہے، وغیرہ۔ حج بڑا حج ہے اور عمرہ چھوٹا حج۔ دونوں کا پیغام ایک ہے۔ شریعت کی یہ منشا نہیں کہ لوگ بار بار حج اور عمرہ کرتے رہیں۔ شریعت کی منشا یہ ہے کہ لوگ ایک بار حج اور عمرہ کرنے کے بعد اس کی اسپرٹ کے مطابق زندگی گزاریں اور اس کے پیغام کو ساری دنیا میں پہنچائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues