قرآن کی دو آیتیں
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۷
کوئی شخص اس کو اپنا ذاتی مسئلہ نہیں سمجھ سکتا تھا اور نہ فطری طور پر کسی کو اس سے ذاتی تعلق ہو سکتا تھا۔ اسی صورتِ حال کی طرف قرآن میں ’خفتم‘ کے لفظ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے، یعنی فطری طور پر یہ اندیشہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال کے رہتے ہوئے یہ مسئلہ لوگوں کے لیے انفرادی دلچسپی کا مسئلہ نہ بنے اور یتیم بچوں کو غیر ضروری مسائل کا سامنا کرناپڑے، جیسا کہ عام طور پر سماج میں دیکھا گیا ہے۔ اس مسئلے کا حل قرآن میں یہ بتایا گیا کہ مدینے کے مختلف افراد اپنے حالات کے لحاظ سے، بیوہ خواتین سے نکاح کر لیں۔ جس شخص کے لیے دو نکاح ممکن ہو، وہ دو نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے تین نکاح ممکن ہو، وہ تین نکاح کرلے، اور جس شخص کے لیے چار نکاح ممکن ہو، وہ چار نکاح کرلے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ بیوہ خواتین کے بچوں کو دوبارہ باپ جیسی سرپرستی حاصل ہو جائے گی۔ بیوہ خواتین کے شوہروں کو ان خواتین کی اولاد کے ساتھ ذاتی تعلق ہو جائے گا، وہ براہِ راست ان کی ذاتی نگرانی میں آجائیں گے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ جو مسئلہ سماج کی سطح پر عمومی انداز میں پیدا ہوا ہے، وہ افراد کی سطح پر تقسیم ہوکر فطری انداز میں حل ہو جائے گا۔
سورہ النساء کی آیت نمبر 3 میں نکاح کا جو حکم بیان ہوا ہے، وہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے، بلکہ وہ اُس ہنگامی صورتِ حال کی نسبت سے ہے جو کہ مدینہ میں جنگِ احد کے بعد پیدا ہوگئی تھی۔ عام حالات میں نکاح کی فطری صورت یہ ہے کہ ایک شخص ایک خاتون سے نکاح کرے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ خدا کا تخلیقی نظام عورت اور مرد کی تعداد میں ہمیشہ ایک توازن (equilibrium) قائم رکھتا ہے۔ اس لیے قانونِ فطرت کے مطابق، غیر محدود وتعدّدِ ازدواج عملاً ممکن ہی نہیں۔
تعددِ ازدواج (polygamy) کا حکم قرآن کی صرف اسی ایک آیت میں آیا ہے، جو کہ غزوۂ احد کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی نسبت سے اتری تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں کئی عورتوں سے نکاح کرنے کا حکم لوگوں کو تفریح (entertainment) کا موقع دینے کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اِس صورتِ حال کے لیے ہے، جب کہ سماج میں کسی حادثے کی بنا پر عورتیں سرپلس (surplus) ہو جائیں۔ قرآن میں یہ حکم بیواؤں اور یتیم بچوں کے مسئلے کے فطری بندوبست کے لیے ہے، جیسا کہ آیت کے سیاق سے واضح ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues