Al-Risala · February 2010 · page 8

دوسرا اخراج قریب آگیا

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۸

دوسرا اخراج قریب آگیا

بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک صنعتی ترقی کو صرف ایک مثبت ظاہر ہ کے روپ میں دیکھا جاتا تھا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں معلوم ہوا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ایک سنگین قسم کا منفی پہلو موجود ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔

صنعتی ترقی اپنے ساتھ ، صنعتی کثافت (industrial polution) کا مسئلہ لائی ہے۔ اس کثافت کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا واقعہ پیش آیا ہے، یعنی موسم میں بگاڑ (weather chaos)، پانی کے ذخیروں کا پگھلنا، نازک حیوانات (fragile animals) کی موت، سمندر کے پانی کا آلودہ ہو جانا اور لائف سپورٹ سسٹم کا بگڑ جانا، وغیرہ۔ فطرت میں ان تمام خرابیوں کی جڑ گلوبل وارمنگ ہے۔ اس مسئلے پر ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن میں 18-7 دسمبر 2009 کو ایک انٹر نیشنل کانفرنس ہوئی جس میں دنیا بھر کے دوسو ملکوں کے ذمے داران شریک ہوئے۔ مگر یہ کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ ترقی یافتہ ممالک اپنے اعلیٰ معیارِ زندگی کو ہر حال میں برقرار رکھنا چاہتے تھے، اور زیرِ ترقی ممالک اعلیٰ معیارِ زندگی کی دوڑ میں کسی بھی حال میں کمی کرنے پر راضی نہ تھے۔

گلوبل وارمنگ کا اصل سبب لائف اسٹائل کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے موجودہ ذرائع صرف یہ اجازت دیتے ہیں کہ انسان اپنی حقیقی ضرورت (real need) کے بقدر اس کو استعمال کرے، لیکن آج کے انسان کا نشانہ پُر تعیش لائف اسٹائل (luxurious life style) بن گیا ہے۔ انسان کا یہی غیر حقیقی گول ہے جس نے موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کا سنگین مسئلہ پیدا کیا ہے۔ گلوبل وارمنگ گویا کہ فطرت کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ انسان کا یہ نشانہ موجودہ دنیا میں پورا ہونے والا نہیں، وہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو منصوبہ فطرت کے خلاف ہو، اس کی تکمیل اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔ یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست طور پر خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے جڑا

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page