Al-Risala · December 2010 · page 14

بعد کے زمانے کا فتنہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴

بعد کے زمانے کا فتنہ

حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سيخرج قوم فى آخر الزّمان، أحداث الأسنان، سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البريّة۔ يقرؤن القرآن، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرّمية (صحیح البخاری، کتاب استتابة المرتدين، باب قتل الخوارج) یعنی آخری زمانے میں کچھ لوگ نکلیں گے، کم عمر والے، کم عقل والے۔ بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے۔ وہ قرآن کو پڑھیں گے، مگر ایمان اُن کے حلق سے تجاوز نہ کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح تیر شکار کے اوپر سے نکل جاتا ہے۔ اس حدیث میں ایک چیز مابین السطور (between the lines) ہے۔ اس کو شامل کرنے کے بعد ہی یہ حدیث پوری طرح سمجھی جاسکتی ہے، وہ مابین السطور یہ ہے کہ آئندہ ایسے حالات پیدا ہوں گے جو لوگوں کو یہ موقع دیں گے کہ وہ علم اور تجربہ کی کمی کے باوجود نمایاں ہو جائیں گے، وہ لوگوں کے درمیان بڑے بڑے درجے حاصل کر لیں گے۔

موجودہ زمانہ وہی زمانہ ہے جس کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی۔ موجودہ زمانے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ بعد کو پیدا ہونے والے حالات سے کیا مراد ہے۔ وہ ہے میڈیا، اسٹیج، آزادی، جمہوریت، دولت کی فراوانی، مظاہرہ کی سیاست، مسلمانوں کی عظیم اکثریت، وغیرہ۔ آج صاف نظر آتا ہے کہ ان نئی چیزوں نے کس طرح لوگوں کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ بے صلاحیت ہونے کے باوجود خوش نما الفاظ بول کر لوگوں کے درمیان اونچا مقام پالیں، جو داخلی اعتبار سے سطحی ہونے کے باوجود ظاہری نمائش کے ذریعے عوامی مقبولیت حاصل کر لیں، جو قرآن کی روح سے خالی ہونے کے باوجود اپنی خوش الحانی کے ذریعے شہرت حاصل کر لیں، جو خدا کے خوف اور آخرت سے غافل ہونے کے باوجود عوامی تقریریں کر کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیں۔ یہ سب صنعتی دور میں پیدا ہونے والے نئے مواقع کی بنا پر پیش آئے گا۔ افراد ہمیشہ حالات سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ حالات کے بغیر۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page