Al-Risala · December 2010 · page 15

شیطان کا پردہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

شیطان کا پردہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے : ہذه الشياطين يحومون على أعين بني آدم أن لا يتفكروا في ملكوت السماوات والأرض ـ ولو لا ذلك لرأوا العجائب (مسند احمد، جلد 2، صفحہ 353) یعنی یہ شیاطین ، بنی آدم کی آنکھ کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں، تاکہ وہ آسمان و زمین میں خدائی قدرت پر غور نہ کریں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یقیناً وہ عجائب کو دیکھیں۔

ہمارے گرد و پیش جو کائنات ہے، اس کو علمی اصطلاح میں فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ اس وسیع عالم فطرت میں بے شمار واقعات یا مظاہر ہیں جو ہر وقت انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ہر آنکھ والا انسان اُن کو دیکھتا ہے اور اُن کا تجربہ کرتا ہے، لیکن بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بنے رہتے ہیں: وكأين مِن آية في السماوات والأرض يمرّون عليها، وهم عنها معرضون (105: 12)

یہ کائناتی واقعات دراصل خدائی نشانیاں (divine signs) ہیں، وہ تخلیق (creature) کی صورت میں اپنے خالق (Creator) کا تعارف ہیں۔ انسان اگر کھلی آنکھ سے دیکھے تو وہ ان واقعات میں عجائب قدرت کا مشاہدہ کرے گا۔ لیکن شیطان آدمی کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالتا ہے کہ وہ ان کائناتی واقعات کو صحیح زاویہ نظر سے نہ دیکھ سکے۔ شیطان، آدمی کے ذہن میں یہ تصور ڈالتا ہے کہ یہ سب واقعات خودکار قوانین کا نتیجہ ہیں، نہ کہ خدائی قدرت کا نتیجہ۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی ان واقعات کو نصیحت کے پہلو سے نہ دیکھے، بلکہ وہ صرف اس نظر سے دیکھے کہ کس طرح اُن کے مادی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی اپنے اردگرد کے واقعات کو فار گرانٹڈ (for granted) طور پر لیتا رہے، وہ اُن کے بارے میں زیادہ غور و فکر نہ کرے۔ یہی وہ شیطانی وسوسے ہیں جو انسان کو حقائق کی صحیح معرفت سے محروم کر دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page