Al-Risala · December 2010 · page 17

بعثتِ نبوی اور قیامت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷

بعثتِ نبوی اور قیامت

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُعثتُ أنا والساعة كهاتين (صحيح البخاری، كتاب الرقاق، باب قول النبی بُعثت أنا والساعة) یعنی میں اور قیامت دونوں ایک ساتھ بھیجے گئے ہیں، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا، یعنی جس طرح یہ دو انگلیاں ایک دوسرے کے قریب ہیں، اُسی طرح میں اور قیامت ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں۔

اس حدیث میں دراصل ایک تاریخی پراسس (process) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے ذریعے سے انسانی تاریخ میں ایک پراسس کا آغاز ہوا ہے جس کی تکمیل پر قیامت ہے:

I have initiated a process in human history the culmination of which is Qayamah (Doomsday)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو تاریخی پراسس جاری ہوا، اس کے چار بڑے مرحلے ہیں— اظہارِ دین، حفاظتِ وحی، تبیین حق ، ادخال کلمہ۔ یہ چاروں مرحلے قیاسی نہیں، بلکہ وہ قرآن اور حدیث کے مطالعے سے واضح طور پر معلوم ہوتے ہیں۔

1- پہلا مرحلہ وہ ہے جس کو قرآن میں اظہارِ دین (28 :48) یا استیصالِ فتنہ (39 :8) کہا گیا ہے۔ اس سے مراد ہے مذہبی جبر (religious persecution) کا خاتمہ اور کامل معنوں میں مذہبی آزادی (religious freedom) کے دور کو لانا۔ اصحابِ رسول نے اس کام کو انجام دیا۔ انھوں نے اپنی قربانیوں کے ذریعے شرک کو سیاسی اقتدار سے جدا کر دیا۔ اصحابِ رسول کا یہی کارنامہ ہے جس کو قرآن میں وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page