بعثتِ نبوی اور قیامت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۱۸
2- دوسرا مرحلہ حفاظتِ وحی کا ہے، وحی متلو بھی اور وحی غیر متلو بھی۔ اس مرحلے کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 15 میں اس طرح آیا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذكر وإنا له لحافظون (9:15) اس آیت میں’’ الذکر‘‘ سے مراد قرآن ہے۔ آیت میں حفاظتِ وحی کے عمل کو براہِ راست اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ اپنے فرشتے بھیجے گا اور وہ اس کام کو انجام دیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کچھ لوگوں کو توفیق دے گا اور وہ اللہ کی خصوصی مدد سے اس کام کو انجام دیں گے۔
حفاظت کا یہ کام بنیادی طور پر عباسی دور میں انجام پایا۔ اُس زمانے میں قرآن اور قرآنی علوم کو حفاظت کے آخری درجے تک پہنچا دیا گیا۔ اس زمانے میں حدیث کی تدوین کا کام بھی اعلیٰ سطح پر انجام دیا گیا، نیز دوسرے متعلق علوم پر اتنا زیادہ تحریری کام ہوا کہ اُن سے ایک پورا کتب خانہ تیار ہوگیا۔ 3- اس سلسلے میں تیسرا کام وہ ہے جس کو قرآن میں تبیینِ حق (41: 53) کہا گیا ہے، یعنی آفاق اور نفس میں چھپی ہوئی خدائی نشانیوں کو کھولنا، تا کہ دینِ خداوندی کے حقائق خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن جائیں۔ یہ کام ساتویں صدی اور آٹھویں صدی عیسوی میں مسلم سائنس دانوں نے شروع کیا، پہلے بغداد میں اور پھر اندلس میں۔ اُس زمانے کے مسلم سائنس دانوں نے علومِ فطرت کی تحقیق میں کافی کام کیا، لیکن وہ اُس کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان مذہبی عقیدہ اور سائنسی تحقیق کو ایک دوسرے سے الگ نہ کر سکے۔ چناں چہ مسلمانوں کا مذہبی طبقہ اور ان کے سائنسی علماء کے درمیان مسلسل نزاعات پیش آتے رہے، جس کی وجہ سے یہ کام زیادہ آگے نہ بڑھ سکا۔ اس کی تفصیل درج ذیل کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے:
تاریخ اسلام، از: اکبر شاہ نجیب آبادی، جلد سوم History of the Arabs, by Philip K Hitti ان نزاعات کی بنا پر مسلمان تبیین حق بالفاظ دیگر علوم فطرت کے انکشاف کو تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ اس کام کی تکمیل نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد یورپ میں انجام پائی اور پھر وہ امریکا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues