قرآن کے انگریزی تراجم
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳
قرآن کے انگریزی تراجم
سعودی عرب (مدینہ) میں قرآن کی اشاعت کے لیے ایک بڑا ادارہ قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف۔ اس ادارے کے تحت 2007 میں انگریزی زبان میں ایک کتاب چھاپی گئی ہے۔ اس کتاب میں قرآن کے انگریزی تراجم و تفاسیر کا تعارف اور تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب 474 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر عبد الرحيم قدوائی (مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ) ہیں۔ اس کتاب کا پورا نام یہ ہے:
Bibliography of the Translations of the Meanings of the Glorious Quran into English: (1649-2002) A Critical Study اس کتاب میں قرآن کے 47 انگریزی تراجم و تفاسیر کا ذکر ہے۔ یہ تراجم پچھلے ساڑھے تین سو سال کے درمیان کیے گئے۔ ان کے مترجمین میں مسلم نام بھی ہیں اور غیر مسلم نام بھی۔ کتاب میں درست طور پر یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ یہ انگریزی تراجم مغربی دنیا میں یا انگلش اسپیکنگ دنیا میں مقبول نہ ہو سکے۔ یہ ترجمے اگر چہ لوگوں کے درمیان تقسیم کیے گئے، لیکن مطالعے کے اعتبار سے وہ عملاً مقبول نہ ہو سکے۔ یہ بات بجائے خود واقعہ ہے، لیکن کتاب میں اس کی نشان دہی موجود نہیں کہ اس غیر مقبولیت کا اصل سبب کیا تھا۔ انگریزی ترجموں کی اس غیر مقبولیت کا اصل سبب یہ تھا کہ یہ ترجمے قرآنی اسلوب کی اصل خصوصیت سے محروم تھے، وہ خصوصیت قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: ولقد يسرنا القرآن للذكر (17: 54) یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے۔ اس آیت میں آسانی سے مراد وضوح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کے اسلوب میں سادگی اور وضوح بدرجہ اتم (par excellence) پایا جاتا ہے۔ اسی امتیازی خصوصیت کی بنا پر قرآن نے عربوں کے ذہن کو مسخر کر لیا۔ مگر عجیب بات ہے قرآن کے انگریزی ترجموں میں قرآنی اسلوب کی یہی امتیازی خصوصیت موجود نہیں۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر قرآن کے انگریزی تراجم، انگریزی دانوں کے درمیان زیادہ مقبول نہ ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues