Al-Risala · December 2010 · page 22

انوکھی تخلیق

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲

انوکھی تخلیق

شمسی نظام (solar system) اور اس کے اندر استثنائی نوعیت کا سیارہ زمین (Planet earth) ایک انوکھی تخلیق ہے۔ یہاں انسان کے لیے اس کی ضرورت کی تمام چیزیں اعلیٰ معیار کے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہاں ایک اور چیز بھی ہے جس کو قرآن میں کبد (90:5) کہا گیا ہے، یعنی یہاں اگرچہ انسان کے لیے ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہاں انسانی زندگی کے ہم راہ مشقت (distress) شامل کردی گئی ہے۔ انسان کچھ بھی کرے، لیکن وہ اپنی زندگی کو کسی بھی حال میں درد و کرب سے بچا نہیں سکتا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے اور وہاں کے ماحول کا تجربہ کریں گے تو اُن کی زبان سے نکلے گا: الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن (35:34) یعنی اُس اللہ کا شکر ہے جس نے خوف و حزن کو ہم سے دور کر دیا:

Praise be to God who has taken away all sorrow from us. اہل جنت کا یہ کلمہ دراصل دریافت کا ایک کلمہ ہوگا۔ وہ جنت کی صورت میں ایک نئے اور انوکھے تخلیقی کرشمہ کی دریافت کریں گے، یہ دریافت کہ جو خالق كبد والی دنیا کی تخلیق کر سکتا تھا، وہ اس طاقت کا بھی حامل تھا کہ ایک اور دنیا کی تخلیق کرے جہاں خوف اور حُزن کی کوئی صورت نہ پائی جائے۔ ایسی ایک جنت بنانے کے لیے ایک اور دنیا تخلیق کرنے کی ضرورت تھی اور خدا نے جنت کی صورت میں اُس نئی دنیا کی تخلیق کر دی۔

اہل جنت جب ایک ایسی انوکھی دنیا کو پائیں گے تو کمالِ استجاب سے وہ کلمہ ان کی زبان پر جاری ہو جائے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: وقالوا الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن۔ خوف وحزن سے خالی دنیا کی تخلیق ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے جس کو ظہور میں لانا، قادر مطلق خدا کے سوا کسی اور کے لیے ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page