Al-Risala · December 2010 · page 25

بابری مسجد کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۵

بابری مسجد کا مسئلہ

ایودھیا کی بابری مسجد کو مغل دور کے گورنر میر باقی نے 1528 میں بنوایا تھا۔ اس معاملے میں مسلمانوں کو پہلا شاک (shock) اُس وقت لگا جب کہ 23 دسمبر 1949 کی رات کو کچھ ہندوؤں نے مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دیں۔ اس کے بعد دوسرا بڑا شاک اُس وقت لگا، جب کہ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھادی گئی اور اُس کی جگہ ایک عارضی مندر (make-shift temple) بنا دیا گیا۔ اس کے بعد اس معاملے میں تیسرا شاک مسلمانوں کو 30 ستمبر 2010 کو لگا۔ یہ وہ تاریخ ہے جب کہ تقریباً 60 سالہ عدالتی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ نے بابری مسجد کے بارے میں اپنا فیصلہ دیا۔ یہ فیصلہ مسلمانوں کے نزدیک، ان کی امیدوں کے مطابق نہیں تھا، اس لیے دوبارہ وہ ذہنی صدمہ کا شکار ہو گئے۔

اس طرح کے بحران (crisis) کے معاملے میں اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ کیا اسلام میں صرف نماز، روزہ کے احکام ہیں یا اُس میں بابری مسجد جیسے حادثے کے بارے میں بھی واضح رہنمائی موجود ہے۔ میرے نزدیک، بلاشبہ یہ رہنمائی اسلام میں موجود ہے۔ ذیل میں مختصر طور پر اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ 1- بابری مسجد کے معاملے میں اسلامی تعلیمات سے انحراف کا پہلا واقعہ 1528 میں پیش آیا، جب کہ ایودھیا میں یہ مسجد بنائی گئی۔ اُس وقت وہاں ”رام چبوترہ“ کے نام سے ایک چبوترہ موجود تھا، یہاں رام اور سیتا کی کچھ یادگاریں مثلاً سلونا اور بیلَن جیسی چیزیں موجود تھیں اور ہندو اس کو سیتا کے رسوئی گھر کے طور پر مقدس سمجھتے تھے۔ بابر کے گورنر میر باقی نے مسجد بناتے ہوئے اس رام چبوترہ کو اس کے صحن میں شامل کر دیا۔ یہ طریقہ اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف تھا۔

اس کی ایک متعلق مثال یہ ہے کہ اسلام کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق اپنے زمانہ خلافت (636 ء) میں مدینہ سے چل کر یروشلم (فلسطین) گئے۔ وہاں یروشلم کے بطریق (بشپ) سے گفتگو کر کے دونوں کے درمیان ایک صلح نامہ طے ہوا۔ اُس وقت حضرت عمر فاروق یروشلم کے کنیستہ القیامہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page