بابری مسجد کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶
(Church of Resurrection) میں تھے۔ عصر کی نماز کا وقت آگیا اور آپ نے نماز پڑھنا چاہا تو مسیحی بطریق نے کہا کہ آپ یہیں چرچ کے اندر نماز پڑھ لیجئے۔ حضرت عمر نے کہا کہ نہیں، میں رمية الحجر، یعنی پتھر پھینکنے کی دوری (stone’s throw) پر جاؤں گا اور وہاں نماز پڑھوں گا۔ اس کی حکمت انھوں نے یہ بتائی کہ اگر میں چرچ کے اندر نماز پڑھلوں تو بعد کے زمانے کے مسلمان کہیں گے کہ یہاں ہمارے خلیفہ نے نماز پڑھی ہے، اس لیے ہم یہاں مسجد بنائیں گے۔ اس طرح یہاں چرچ اور مسجد کا جھگڑا کھڑا ہو جائے گا۔
بابری مسجد کے معاملے میں حضرت عمر کے مذکورہ نمونے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلی غلطی خود میر باقی نے کی۔ انھوں نے ہندوؤں کے مقدس استھان سے ملا کر مسجد بنائی۔ اس طرح انھوں نے پہلے ہی دن اس معاملے میں نزاع کی بنیاد رکھ دی۔
2 - دسمبر 1949 میں جب بابری مسجد کے اندر تین مورتیاں رکھ دی گئیں، اُس وقت بھی مسلمانوں نے اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل نہیں کی اور نتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ وہ نا قابل حل مسئلہ بن گیا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں جب توحید کا مشن شروع کیا، اُس وقت وہاں کی ابراہیمی مسجد کعبہ کے اندر مشرکین نے 360 بت رکھ دئے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان بتوں کی موجودگی سے اعراض فرمایا اور اپنی ساری کوشش وہاں کے انسانوں پر شروع کردی۔ آپ نے کعبہ کی عمارت کے اندر سے بتوں کو نکالنے کے بجائے لوگوں کے دلوں سے بتوں کے نکالنے کو اپنا نشانہ بنایا۔ یہ طریقہ نہایت کامیاب ہوا، یہاں تک کہ 18 سال کی دعوتی کوشش کے بعد مکہ کے مشرکین نے بت پرستی کو ترک کر دیا اور خود کعبہ کی عمارت سے تمام بتوں کو ہٹا دیا۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانے کے مسلمان اس پیغمبرانہ حکمت کو اختیار کرنے میں مکمل طور پر نا کام رہے۔ چناں چہ انھوں نے اس معاملے میں رد عمل کا طریقہ اختیار کیا جس کا نتیجہ صرف الٹی صورت میں برآمد ہوا۔ 3 - ستمبر 1991 میں پی وی نرسمہا راؤ (وفات : 2004) ہندوستان کے وزیر اعظم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues