Al-Risala · January 2010 · page 5

No victors, only survivors

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۵

یہ خواب خودان کے قلم سے میری ڈائری میں اس طرح موجود ہے :

” 10 اگست 2009 کی رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ راقم الحروف اور مولا نا وحید الدین خاں صاحب ایک جگہ فرش پر قعدہ کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس دوران دو عامل مولانا کے پاس آتے ہیں۔ مولانا اُن سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ جو چاہیں پڑھ کر میرے اوپر پھونکیں ، ان شاء اللہ مجھ پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوگا۔ چناں چہ دونوں عامل کافی دیر تک پڑھ کر مولانا کے اوپر پھونکتے رہے ، مگر مولانا کے اوپر اس کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ کافی دیر کے بعد مذکورہ عامل جب پھونک کر فارغ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ مولانا کے چہرے پر شکر کے گہرے آثار نمایاں تھے۔ مولانا کہہ رہے تھے کہ یہ سب خدا کی رحمت ہے کہ مجھ پر ان لوگوں کے عمل کا کوئی منفی اثر نہیں ہوا۔ آخر میں اُن عاملوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے ایسی ایسی چیزیں پڑھ کر پھونکی تھیں کہ آدمی کا بدن چھلنی ہو جائے ، مگر تعجب ہے کہ مولانا کے اوپر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ فجر سے پہلے کا وقت تھا۔ “ (محمد ذکوان ندوی)

ہر بار سفر کے موقع پر میرا معمول رہا ہے کہ میں سفر کے موقع پر یہ دعا کرتا ہوں : اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال (أبو داؤد، كتاب الجهاد ) مگر پولینڈ کے سفر میں میری زبان سے ایک نئی دعا نکلی۔ میں نے ایک پوائنٹ آف ریفرنس کو لے کر دعا کی۔ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے ایک ممبر ہیں۔ اُن کا نام ڈاکٹر لونارڈو (Leonardo Palombi) ہے۔ کمیونٹی کے پچھلے سالوں کے ایک پروگرام میں ان کا ٹیلی فون آیا تو میں نے کہا کہ میں صرف ایک شرط پر آ سکتا ہوں ، اور وہ ہے ۔ ائر پورٹ سے ائر پورٹ تک آپ کی موجودگی: Your availibility from airport to airport انھوں نے اس کا وعدہ کیا۔ چناں چہ جب میں رومانیہ کے ائر پورٹ پر اترا تو وہ برابر میرے ساتھ رہے ، یہاں تک کہ واپسی میں ائر پورٹ تک وہ ہمیں پہنچانے آئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page