No victors, only survivors
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۶
موجودہ سفر میں میرے اوپر عجز کا احساس غالب تھا۔ اس احساس کے تحت میری زبان سے دعا نکلی کہ یا اللہ، تو اس سفر میں دہلی سے دہلی تک (from Delhi to Delhi) میرا ساتھی بن جا۔ یہ سفر میں صرف تیرے لئے کر رہا ہوں، تو ہی اس سفر میں میرا مددگار بن سکتا ہے۔
عجیب بات ہے کہ یہ دعا کامل طور پر قبول ہوئی۔ پورے سفر میں اس کا مشاہدہ ہوتا رہا۔ یہ پورا سفر اتنا آسان بن گیا کہ واپسی کے بعد میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ سفر ہمارے لیے گویا ایک خواب جیسا سفر (dream journey) تھا۔ ہم ابھی دہلی میں تھے کہ اس کے آثار دکھائی دینے لگے۔ ہمارے قافلے میں چار افراد شامل تھے— راقم الحروف، مسٹر رِجت ملہوترا، سعدیہ خان، مولانامحمد ذکوان ندوی۔ نئی دہلی میں پولینڈ کے سفارت خانے نے نہایت آسانی سے ہم کو ویزا دے دیا اور ہم سے ویزا کی فیس نہیں لی جس کی مجموعی رقم 16 ہزار روپے تھی۔
4 ستمبر 2009 کی شام کو دہلی سے پولینڈ کے لیے روانگی ہوئی۔ آج کے اخباروں میں سب سے زیادہ نمایاں خبر یہ تھی کہ آندھرا پردیش کے چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کا انتقال ہو گیا۔ وہ ایک ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے۔ ان کا ہیلی کاپٹر بارش کے طوفان میں پھنس گیا اور ایک پہاڑی سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔
راج شیکھر ریڈی کی موت کے بعد لوگوں کے تاثرات اس قسم کے الفاظ میں سامنے آئے— ایک کریسمیٹک لیڈر (charismatic leader) چلا گیا، ایک کامیاب چیف منسٹر چلا گیا، ایک مقبول عام لیڈر چلا گیا، وغیرہ۔ میں نے حیدرآباد کے حبیب بھائی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ایک مدعو چلا گیا۔ آندھرا پردیش کے مسلمانوں کی یہ ذمے داری تھی کہ وہ اپنے اس لیڈر تک خدا کا پیغام پہنچائیں، لیکن وہ اپنی اس ذمے داری کو ادا نہ کر سکے اور جانے والا ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ اس کوتاہی کی پچاس فی صد ذمے داری اگرا جانے والے لیڈر پر ہے تو پچاس فی صد ذمے داری وہاں کے رہنے والے مسلمانوں پر ہے۔
4 ستمبر 2009 کی رات کو 10 بجے ہم لوگ ایک قافلے کی صورت میں ائر پورٹ کے لیے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues