Al-Risala · February 2010 · page 10

فتنة الدہیماء

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰

فتنة الدہیماء

پیغمبر اسلام ﷺ نے قیامت سے پہلے کے زمانے کے لیے بہت سی پیشین گوئیاں کی ہیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی یہ ہے کہ آخری زمانے میں قیامت سے پہلے ایک سنگین واقعہ پیش آئے گا۔ اس واقعے کو فتنه دہیماء کہا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ۔ آخری زمانے میں فتنه دہیماء ظاہر ہوگا۔ اس امت کا کوئی بھی شخص نہیں بچے گا جو اس فتنے کی زد میں نہ آجائے (...... ثم تكون فتنة الدهيماء، لا تدع أحداً من هذه الأمة إلا لطمته لطمةً (سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم): It will hit everyone without any exception. اس حدیثِ رسول میں دُہیماء کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دہیماء کے لیے مشہور عربی لغت لسان العرب میں یہ الفاظ آئے ہیں: الفتنة السوداء المظلمة (12/211)۔ لسان العرب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہیماء کی تصغیر مبالغہ کے لیے ہے، یعنی فتنه دہیماء، بہت زیادہ سیاہ اور بہت زیادہ تاریکی پیدا کرنے والا فتنہ ہوگا۔ اس حدیث کے مطابق، فتنه دہیماء کا زمانہ مکمل تاریکی کا زمانہ (age of total darkness) ہوگا۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فتنه دہیماء سے مراد وہی دور ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پوری طرح آیا اور اب تک اس کا سلسلہ جاری ہے۔ اس قسم کا دور صرف اُس وقت پیدا ہوسکتا تھا، جب کہ پرنٹنگ پریس ظہور میں آچکا ہو اور انسانی علم میں بہت زیادہ ترقی ہو چکی ہو، اور اسی کے ساتھ دوسرے موافق مواقع پیدا ہو چکے ہوں۔

موجودہ زمانہ اسی عظیم فتنے کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مغالطہ آمیر تصورات ایک فلسفے کی صورت میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے مغالطہ (fallacy) صرف ایک سادہ قسم کا مغالطہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں مغالطہ نے ایک باقاعدہ فلسفے کی صورت اختیار کر لی ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ تجزیہ کر کے اس کی حقیقت کو سمجھیں۔ آج غلط تعبیرات کا ایک

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page