دوسرا اخراج قریب آگیا
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۹
ہوا ہے۔ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر اس معاملے کا درست تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں انسان کا منصوبہ خالق فطرت کے منصوبے سے ٹکرا رہا ہے، اور یہ ناممکن ہے کہ اس دنیا میں خالق فطرت کے منصوبے کے خلاف کسی منصوبے کو کامیاب بنایا جا سکے۔
خدا نے انسان (آدم) کو اور ان کی بیوی حوا کو پیدا کیا اور اُن کو جنت میں بسایا۔ خدا نے کہا کہ تم لوگ جنت میں آزادی کے ساتھ رہو، لیکن تم لوگ فلاں درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ جنت سے چھن جائے گی (البقرہ: 35)، مگر آدم اور حوا اس ہدایت پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں نے ممنوعہ درخت (forbidden tree) کا پھل کھایا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنت کا لباس اُن سے چھن گیا اور اُن کو جنت چھوڑ کر موجودہ زمین پر آنا پڑا۔
یہ دراصل اسراف کا معاملہ تھا، یعنی حد سے تجاوز کرنا (to exceed one's limit)۔ اس اسراف کے نتیجے میں آدم کو پہلی بار جنت کو چھوڑنا پڑا۔ اسراف کا یہی معاملہ دوسری بار زیادہ بڑے پیمانے پر انسان کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ خدا نے انسان کو موجودہ دنیا میں آباد کیا تو دوبارہ اس کے لیے ایک حد مقرر کر دی۔ وہ حد یہ کہ انسان موجودہ دنیا سے بقدر ضرورت فائدہ اٹھائے۔ وہ یہاں پر تعیش زندگی حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔
جدید صنعتی ترقی سے پہلے انسان مجبورانہ طور پر اس حد پر قائم تھا، لیکن جدید صنعتی ترقی کے بعد وہ اس حد پر قائم نہ رہ سکا۔ وہ پر تعیش زندگی کی طرف تیزی سے دوڑنے لگا۔ اکیسویں صدی عیسوی میں یہ دوڑ اپنی آخری حد پر پہنچ گئی ہے۔
اب خالق کا فیصلہ انسان کے خلاف ظاہر ہو چکا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کا لباس اس سے اتارا جا رہا ہے۔ پرتعیش زندگی یہاں انسان کے لیے شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن انسان اپنی بڑھی ہوئی خواہش کی بنا پر اپنی حد سے باہر چلا گیا۔
اب وہ وقت بہت قریب آ چکا ہے جب کہ موجودہ دنیا سے اُسی طرح انسان کا اخراج کر دیا جائے، جس طرح آدم کا اخراج جنت سے ہوا تھا۔ اسی دوسرے اخراج کا نام قیامت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues