Al-Risala · December 2010 · page 45

He was fired.

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۵

ساتھ ہم ایک لامحدود روحانی دریا میں نہارہے تھے، ایسا محسوس ہورہا تھا، جیسے ہم فرشتوں کی صحبت میں بیٹھے ہوئے ہوں، جیسے ہم خداوند و ذوالجلال کی ابدی رحمتوں کے سائے میں آگئے ہوں۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور) ● دعوہ میٹ ایک عجیب اجتماع تھا۔ میں نے بہت سے مسلم اور غیر مسلم اجتماع میں شرکت کی ہے۔ مگر مذکورہ اجتماع کا پورا ماحول اور وہ کیفیات جو شعر کاء پر طاری تھیں، اس کو میری آنکھوں نے نہ کبھی دیکھا اور نہ میرے جیسے انسان کے لیے اُس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن ہے۔ یہ واحد اجتماع تھا جس میں ہر طرف میں نے صرف اللہ کی عظمت کا چرچا سنا، اللہ کی عظمت کے سوا دوسری کسی عظمت سے یہ اجتماع مکمل طور پر خالی تھا۔ یہ اجتماع غیر معمولی طور پر اثر انگیز تھا۔ سارے لوگ تڑپ رہے تھے اور رو رہے تھے، اس فکر میں کہ کیسے تمام انسانوں تک خدا کا کلام (قرآن) پہنچا دیا جائے۔ خود صدرِ اسلامی مرکز کا حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے، جسم کانپ رہا تھا، اس احساس میں کہ ’’ہم سب سے بڑے ظالم ہیں، کیوں کہ ہم نے انسانوں سے ان کی جنت چھین رکھی ہے۔ ‘‘ اس اجتماع میں جن چیزوں نے مجھے ششدر کردیا، اس میں ایک دہلی سی پی ایس ٹیم کی تواضع (modesty) تھی۔ ڈاکٹر فریدہ خانم، ڈاکٹر ثانی اثنین خاں، مولانا محمد ذکوان ندوی، نغمہ صدیقی، استھی مہوترا، رجت ملہوترا، نو دیپ کور، وغیرہ ایسے انسان ہیں جنھوں نے اپنی انا کو کچل دیا ہے۔ میری زندگی میں یہ پہلا اجتماع تھا جس میں چیئر کا کوئی مسئلہ نہیں تھا، جس میں خود منتظمین کے بڑے اور اہم افراد زمین پر اور سب سے پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ خود مولانا صاحب راؤنڈ میز کی ایک کامن چیئر پر بیٹھے ہوئے تھے اور لوگوں کے دعوتی تجربات سن رہے تھے، اس طرح جیسے لوگ اُن کو گہر ا علم دے رہے ہوں۔ کوئی شخص جس نے مولانا کو کبھی نہ دیکھا ہو، وہ یقیناً اس روز مولانا کو نہیں پہچان سکتا تھا۔ یہ بلا شبہ الرسالہ اور مولانا کی تربیت کا ثمرہ ہے جس نے سی پی ایس دہلی کی ٹیم کو تواضع (modest) با مقصد اور بے غرض بنا دیا ہے۔ ایک دوسرا واقعہ جس نے مجھے حیرت میں ڈال دیا، وہ اس اجتماع میں علماء کی موجودگی تھی۔ میرے دماغ میں یہ بات تھی کہ الرسالہ زیادہ تر جدید حلقہ میں پڑھا جاتا ہے، علماء الرسالہ نہیں پڑھتے۔ مگر کانفرنس کا منظر کچھ اور ہی تھا۔ یہاں بڑی تعداد میں علماء موجود تھے۔ یہ سارے علماء نہایت سنجیدہ اور باصلاحیت ہیں۔ میں نے سارے علماء سے ملاقات کی۔ میں نے پایا کہ سارے علماء الرسالہ کے گہرے قاری ہیں اور الرسالہ مشن سے پوری طرح متفق ہیں۔ ان لوگوں نے یہ اعتراف کیا کہ مولانا نے قرآن اور سیرت کے ایسے پہلوؤں کو کھولا ہے جن کو ہمارے علم کے مطابق، مولانا سے پہلے کسی عالم نے نہیں کھولا۔ مثلاً دعوت الی اللہ کا بے آمیز تصور، خدا کی اعلیٰ شعوری معرفت، دنیا کے دار الانسان یا دار الدعوہ ہونے کی حیثیت، وغیرہ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر علماء نو جوان ہیں جو علمی تحقیق میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ انتہائی سنجیدہ ہیں۔ میں نے اس سے پہلے کسی عالم کو نہیں پایا جو اتنا سنجیدہ ہو، جو مستقل دعوتی فکر میں جیتا ہو اور بالکل کھلے طور پر ڈسکشن کا مزاج رکھتا ہو۔ الرسالہ مشن سے وابستہ یہ علماء اس اعتبار سے ایک استثناء (exception) تھے۔ یہ یقیناً خدا کی خصوصی نصرت ہے۔ یہ علماء ملک کے بڑے بڑے مدرسوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues

Printed page