He was fired.
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۰، صفحہ ۴۴
مختصر یہاں اردو اور انگریزی زبان میں نقل کئے جاتے ہیں :
• دعوہ میٹ واقعی معنوں میں Angels Meet تھی۔ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام جس درد و کرب کے ساتھ الرسلہ مشن سے وابستہ یہ افراد پہنچارہے ہیں، وہ صحابہ کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ دعوت الی اللہ کے میدان میں پیش بہا قربانیوں کے باوجود ان کو کوئی فخر نہیں، بلکہ احساس ذمہ داری سے ان کی آنکھیں نم تھیں۔ اہل جنت کی یہی نشانی ہے—ایمان باللہ، عمل صالح اور تواضع۔ اس مجلس میں کلمہ شہادت کو پہلی بار شعوری طور پر مولانا کے ساتھ تجدید کرنے کا تاریخی موقع نصیب ہوا۔ مجھ پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوئی ۔ یہ منظر دل دہلا دینے والا تھا۔ ہر آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ جو لرز رہا تھا۔ مولانا نے جب روتے ہوئے کہا: ’’اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں پگھل چکی ہیں، تو میرے ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ اس بوڑھے آدمی نے اپنی ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار کر ہم پر ڈال دیا ہے۔ یہ احساس مجھ پر اس قدر غالب رہا کہ میں رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ Dawah Meet نے مجھے وادی کشمیر میں میر سید علی ہمدانی کے دعوتی مشن کو دوبارہ زندہ کر کے اسے عالمی سطح تک پہنچانے کے عزائم دئے۔ میٹنگ کے بعد جب ہم واپس لوٹ رہے تھے تو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک جاپانی خاتون (Yukie Matsuoka) سے دلچسپ انٹریکشن ہوا۔ میں نے خاتون کو قرآن کا انگریزی ترجمہ gift کیا۔ اس کو سینے سے لگا کر وہ خوشی سے جھوم اٹھی: ! “This is for me”’’جیسے ایک ماں اپنے کھوئے ہوئے بچے کو پا کر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتی ہے۔ میرے ساتھی اشک بار آنکھوں سے کہہ رہے تھے : ’’ہم مجرم ہیں ، ہم مجرم ہیں‘‘ (حمید اللہ حمید، ایم اے، بیروہ، کشمیر)
• دعوہ میٹ میں مولانا وحید الدین خاں صاحب نے اپنی خصوصی تقریر کے آغاز میں کہا کہ یہ دعوہ کانفرنس سادہ معنوں میں صرف الرسلہ ریڈرس کی کانفرنس نہیں ہے، بلکہ وہ الرسلہ اینجلس (angels) کی کانفرنس ہے۔ اس تاریخی اجلاس نے بلا تشبیہ حجۃ الوداع کی یاد تازہ کردی۔ مولانا نے بتایا کہ انھوں نے ساٹھ سال پہلے ایک تنظیم جس کا نام’’ انصار اللہ‘‘ تھا، قائم کیا تھا۔ اس ٹیم میں اس وقت صرف مولانا اکیلے تھے۔ آج ساٹھ سال کی مسلسل محنت اور دعاؤں کے نتیجے میں انتہائی سنجیدہ اور باشعور لوگوں کی ایک طاقت ور ٹیم وجود میں آچکی ہے۔ مولانا نے حاضرین کانفرنس سے یہ امید ظاہر کی کہ یہ ٹیم اخوان رسول کی مانند ادخالِ قرآن جیسے عظیم ترین کام کو بخوبی طور پر انجام دے گی۔ مولانا نے مزید کہا کہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، ساٹھ سال کی مسلسل محنت کے بعد میری ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ میں جلد ہی اپنے رب کے پاس چلا جاؤں، لیکن آپ لوگوں کو آخری سانس تک اپنے آپ کو اس مشن سے وابستہ رکھنا ہے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سچے مشن کو پانا سچ مچ خدائی مدد ہے۔ یہی وہ مشن ہے جس کی مدد کا خدا نے وعدہ کیا ہے۔ ٹیم کے ہر ممبر کے چہرے پر روحانیت اور سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ بیشتر حاضرین اس موقع پر اپنے آنسو روک نہیں پا رہے تھے۔ میرے ساتھ بھی کچھ یہی روحانی احساس گزرا۔ میں نے 11 جنوری 2006 کو عرفات کے میدان میں خدا کے سامنے حاضری دی تھی۔ وہی ربانی کیفیت ہمیں آج یہاں محسوس ہورہی تھی۔ صاحب مشن کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2010 All issues