Age of deceiving philosophies
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
جدید تعلیم یافتہ طبقے کے درمیان عمومی قبولیت (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو گیا۔ چارلس ڈارون نے اپنے نظریے میں اگر چہ ایک ابتدائی خالق کے طور پر خدا کا وجود تسلیم کیا تھا، لیکن اس نظریے کے عین تقاضے کی بنا پر ایسا ہوا کہ انسان کی زندگی سے خدا (God) بحیثیت ایک مؤثر عامل کے ختم ہو گیا۔ اب انسان کو اس کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ دعاء اور عبادت کے ذریعے خدا سے تعلق قائم کرے، وہ اپنی زندگی میں خدا کو اپنا رہنما بنائے، وہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ (accountable) سمجھے، وہ خدا سے خوف کرے اور خدا سے محبت کرے، وہ خدا کی جہنم سے ڈرے اور خدا کی جنت کا حریص بنے۔ اس قسم کی تمام چیزیں جدید انسان کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہوگئیں ۔ اس نظریے نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا دور پیدا کیا۔ اس دور کو مبرّر برائی کا دور (age of justified evil) کہا جا سکتا ہے۔
اس سلسلے میں دوسرا نام کارل مارکس (Karl Marx) کا ہے۔ کارل مارکس نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو جدلیاتی مادّیت (dialectical materialism) کہا جاتا ہے۔ قدیم فلسفی زرتشت (وفات: 551 ق م) نے کہا تھا کہ دنیا اچھی طاقتوں اور بری طاقتوں کے درمیان مسلسل جنگ کا نام ہے: The world is a perpetual battle ground between good and evil forces. مارکس نے اس نظریے کو سیکولر معنوں میں استعمال کرتے ہوئے دکھایا کہ انسانی تاریخ ہمیشہ استحصال کرنے والوں (exploiters) اور استحصال کا شکار ہونے والوں (exploited) کے درمیان بٹی رہی ہے۔ اس نے اس نظریے کو لازمی قانونِ طبعی کا درجہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کی بنا پر انسانی سماج میں ہمیشہ ایک طبقاتی جنگ (class war) جاری رہتی ہے۔ اور اس طرح تاریخ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف سفر کرتی رہتی ہے۔
مارکس کا یہ نظریہ مخصوص اسباب سے، انیسویں صدی کے نصف ثانی اور بیسویں صدی کے نصف اول کے درمیان عالمی طور پر پھیلا۔ 1917 میں جب روس میں کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی تو حکومت کے زور پر اس نظریے کو مزید پھیلاؤ ملا۔ اس طرح ساری دنیا میں ایک ایسا ماحول بنا جس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues