Age of deceiving philosophies
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳
مببر تصادم (justified conflict) کو بہت زیادہ فروغ ہوا۔ تقریباً دنیا میں تخریبی سیاست، انقلابی عمل کے خوب صورت نام سے رائج ہوگئی۔
اس سلسلے میں تیسرا نام سمگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) کا ہے۔ سمگمنڈ فرائڈ نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو دوسرے الفاظ میں، مببرّر اباحیت (justified permissiveness) کہا جاسکتا ہے۔ اس نے اپنی تحقیق کے ذریعے دکھایا کہ خواہشات (desires) کو دبانا شخصیت کے ارتقا میں سخت مہلک ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواہشات کو اظہار کا بے روک ٹوک موقع دیا جائے، تاکہ انسانی شخصیت ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچ سکے۔ فرائڈ نے دکھایا کہ دبی ہوئی صنفی خواہش (repressed sexual energy) شخصیت کے ارتقاء کے لیے بے حد خطرناک ہے۔ اُس نے اس بات کی وکالت کی کہ شخصیت کے ارتقاء کے لیے ضروری ہے کہ کم عمری ہی سے صنفی تعلقات قائم ہوں: Emphasized importance of infantile sexuality in personality's development. فرائڈ کا نظریہ بہت زیادہ مقبول ہوا، حتیٰ کہ نظریاتی طور پر فرائڈ کو نہ جانتے ہوئے بھی آج کی دنیا کے بیش تر لوگ فرائڈ کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بے قید تفریح (unchecked enjoyment) کا طریقہ جو ہر جگہ عام ہوگیا ہے، وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فرائڈ کے نظریے کا نتیجہ ہے۔ یہ نظریہ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہر شعبے میں کھلے طور پر صنفی باتیں عام ہوگئیں ہیں، حتی کہ اب اخباروں میں جو نئئے کالم دکھائی دیتے ہیں، اُن میں سے ایک کالم یہ ہوتا ہے: Virginity On Sale اوپر جن تین ناموں کا ذکر ہوا، وہ سیکولر نام تھے، وہ مذہبی رہنما کی حیثیت نہ رکھتے تھے۔ اس فہرست میں چوتھا نام سید ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان حالیہ زمانے میں سیاسی شکست کے جو واقعات پیش آئے، اُس نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کے لیے زرخیز زمین فراہم کردی۔ انیسویں صدی عیسوی کے آخر میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا سیاسی زوال شروع ہوا۔ دھیرے دھیرے دو بڑے مسلم ایمپائر ختم ہوگئے— مغل ایمپائر، اور عثمانی ایمپائر۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues