Al-Risala · February 2010 · page 15

Age of deceiving philosophies

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

ساتھ کہ کچھ لوگ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا ہیں، اور کچھ لوگ غیر فعال تشدد (passive violence) کا کیس بنے ہوئے ہیں۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ تشدد پسندوں کو برا نہ سمجھا جائے۔ اُن پر خاموشی اختیار کی جائے، حتی کہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اس کو جواز (justification) فراہم کیا جائے۔

اس سیاسی تعبیر کا آخری نتیجہ جو سامنے آیا ہے، وہ خودکش بم باری (suicide bombing) ہے۔ خودکشی کا فعل اسلام میں بلاشبہ حرام ہے، مگر ساری دنیا کے مسلمان اس کو ”قربانی“ کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔ عرب علماء نے یہ کہہ کر اس کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ یہ خودکشی نہیں ہے، بلکہ وہ استشهاد یعنی طلبِ شہادت (seeking martyrdom) ہے۔

اوپر کے تجزیے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ چیز جس کو ہم نے مغالطہ آمیز فلسفوں کا دور کہا ہے، اُس کو پیدا کرنے میں سیکولر اسکولر اور غیر سیکولر اسکولر دونوں کا حصہ ہے۔ سیکولر مفکرین نے یہ کیا کہ انھوں نے مغالطہ آمیز طور پر الحاد اور اباحیت کو جواز فراہم کر دیا۔ دوسری طرف، مسلم مفکرین نے اسلام کی ایسی تعبیر کی جس کے نتیجے میں تشدد کا فعل مقدس جہاد کا فعل قرار پایا۔ انھیں افکار کا نتیجہ ہے کہ آج کی دنیا میں ایک طرف، اخلاقی زوال (immorality) اپنی آخری حد تک پہنچ گیا ہے اور دوسری طرف، تشدد اور بم کلچر بھی روز مرہ کی ایک چیز بن گیا ہے۔ سیکولر تحریکوں نے اگر دنیا سے انسانی قدروں (human values) کا خاتمہ کر دیا ہے، تو اسلام کی سیاسی تعبیر پیش کرنے والوں نے بہ ظاہر یہ امکان ختم کر دیا ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو اور دعوت الی اللہ کا ضروری کام انجام دیا جا سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page