Al-Risala · February 2010 · page 16

غیر حقیقت پسندانہ سوچ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

غیر حقیقت پسندانہ سوچ

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں۔ اِسی کے ساتھ وہ مذہبیات کے مطالعے میں دل چسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ قرآن کے مطابق ، یہ دنیا امتحان (test) کے لیے بنی ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر عورت اور مرد امتحان کی حالت میں ہے۔ جو لوگ اس امتحان میں پورے اتریں، وہ جنت میں جائیں گے، اور جو لوگ اس میں پورے نہ اتریں اُن کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ تو نا انصافی ہے۔ اس لیے کہ اس دنیا میں بہت سے پیدا ہونے والے ابھی بچپن کی عمر میں ہوتے ہیں اور کسی بیماری میں مبتلا ہوکر ان کا انتقال ہوجاتا ہے۔ کچھ بچوں کو پیٹ ہی میں ختم کردیا جاتا ہے۔ یہ تو انصاف کے خلاف ہے کہ کچھ لوگوں کو عمل کر کے جنت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے اور کچھ لوگوں کو اس موقع سے محروم کردیا جائے۔ میں نے کہا اس معاملے کا تعلق خدا کے تخلیقی پلان سے نہیں ہے، بلکہ انسان کو دی ہوئی آزادی سے ہے۔ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اِس بنا پر اِس قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انھوں نے میری وضاحت کو نہیں مانا، وہ بدستور بحث کرتے رہے۔ پھر میں نے کہا کہ دیکھیے، آپ کا طریقہ غیر حقیقت پسندانہ طریقہ ہے۔ اور اس دنیا میں غیر حقیقت پسندانہ طریقہ ہمیشہ آدمی کو ڈبل اسٹینڈرڈ والا آدمی بنا دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس ملک میں انجینئرنگ کے مواقع موجود تھے۔ آپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور اب آپ ایک اچھی پوسٹ کے مالک ہیں۔ آپ نے یہ نہیں سوچا کہ ملک میں ان گنت لوگ ایسے ہیں جن کے پاس نہ اچھی ڈگری ہے اور نہ اچھا جاب۔ اس بحث میں پڑے بغیر آپ نے اپنے مستقبل کی تعمیر کی۔ یہی طریقہ آپ کو خدا کے تخلیقی پلان کی نسبت سے کرنا چاہیے۔ آپ کو یہ کرنا چاہیے کہ خدا کے دیے ہوئے مواقع کو استعمال کرکے اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنائیں۔ آپ کا موجودہ طریقہ دہرا معیار کا طریقہ ہے، اور دہرا معیار اختیار کرنا کسی کے لیے بھی عذر (excuse) نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page