Al-Risala · February 2010 · page 19

ہٹلر ممی

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۹

غلطی کا اعتراف

غلطی ہر انسان کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر انسان کو اپنے ضمیر کی سطح پر یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اُس نے غلطی کی ہے، لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں جو غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کریں۔ آدمی اپنے ضمیر کے سامنے مجرم بنا رہتا ہے، لیکن دوسرے لوگوں کے سامنے مجرم بننا اِس کو اتنا زیادہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ یہ کہنے کی ہمت نہیں کر پاتا کہ میں نے غلطی کی۔ یہ ایک مہلک کم زوری ہے جو بیش تر عورتوں اور مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اِس کم زوری کا نقصان اتنا زیادہ ہے کہ اُس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ غلطی آدمی کو ایک عظیم موقع فراہم کرتی ہے۔ لیکن بے اعترافی کے مزاج کی بنا پر لوگ اس موقع کو استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں۔ وہ فرشتے کو اپنے دروازے سے لوٹا دیتے ہیں۔

غلطی کا اعتراف ایک عبادت ہے۔ جب آدمی کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے تو اس کے اندر عظیم مثبت قدریں (positive values) پیدا ہوتی ہیں— آدمی اپنے آپ کو ضمیر کے سامنے مجرم ہونے سے بچا لیتا ہے، وہ اپنے اندر تواضع (modesty) کی نفسیات پیدا کرتا ہے، وہ اپنے ذہن کے بند دروازوں کو کھول دیتا ہے، وہ اپنے اندر مضبوط شخصیت کی پرورش کرتا ہے، وغیرہ۔ اعتراف نہ کرنے کی صورت میں اس کے اندر روحانی اور اخلاقی پستی کا عمل شروع ہو جاتا ہے، جب کہ اعتراف کرنے کے بعد وہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے ترقی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتراف اتنا بڑا عمل ہے کہ اس کے بعد انسان کے لیے خیر کے تمام دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، بے اعترافی اتنی بڑی برائی ہے کہ اس کے بعد انسان کے اوپر خیر کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں— ظاہری اعتبار سے وہ ایک زندہ انسان معلوم ہوتا ہے، لیکن داخلی اعتبار سے وہ ایک مردہ، انسان بن چکا ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page