Al-Risala · February 2010 · page 20

معکوس تربیت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰

معکوس تربیت

ایک مسلم تاجر کا واقعہ ہے۔ ان کی بیٹی نے اُن سے اپنی کسی ضرورت کے لیے پیسہ مانگا۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنی بیٹی سے مزید کچھ نہیں پوچھا۔ انھوں نے فوراً اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، اْس وقت ان کی جیب میں جتنے نوٹ تھے، وہ سب نکال کر انھوں نے اپنی بیٹی کے ہاتھ میں رکھ دیا اور کہا کہ یہ لو، تم ہی لوگوں کے لیے تو کماتے ہیں۔

یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں۔ یہی سارے والدین کا حال ہے۔ والدین خود تو محنت کرتے ہیں، وہ مشقت کی کمائی کرتے ہیں، لیکن اپنی اولاد کے بارے میں ان کا ذہن یہ رہتا ہے کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ وہ خود تکلیف اٹھاتے ہیں اور اپنی اولاد کو ہر قسم کی راحت اور سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ ان کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، خواہ اُنھیں اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے۔

والدین کا یہ مزاج ان کی اولاد کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ والدین کا یہ مزاج اولاد کی معکوس تربیت کے ہم معنی ہے۔ ان کی اولاد کو آخر کار جس دنیا میں داخل ہونا ہے، وہ حقائق کی دنیا ہے۔ وہاں کا اصول یہ ہے کہ ــــ جتنا کرو، اتنا پاؤ۔

لیکن والدین گھر کے اندر اپنی اولاد کے اندر جو مزاج پیدا کرتے ہیں، وہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول کے بغیر پانے کا ماحول ہوتا ہے، اور گھر کے باہر کا ماحول کر کے پانے کا ماحول۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کا ہر نو جوان، لڑکے اور لڑکیاں دونوں، منفی ذہن کا شکار ہو ر ہے ہیں۔ اُنھیں دنیا کے ہر شخص سے شکایت ہوتی ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ میرے ماں اور باپ بہت اچھے تھے، بقیہ تمام لوگ نہایت برے ہیں۔

اس صورت حال نے آج کی دنیا میں دو چیزوں کا خاتمہ کر دیا ہے ــــ محنت کے ساتھ اپنا کام کرنا، اور لوگوں کا خیر خواہ(well-wisher)بن کر ان کے درمیان رہنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page