بات بنانا
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱
بات بنانا
ایک بارلش بزرگ ملاقات کے لیے آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت دن سے آپ کا ماہ نامہ الرسالہ پڑھتا تھا اور اس کو پسند کرتا تھا۔ آج دہلی آیا تو میری خواہش ہوئی کہ آپ سے ملاقات کروں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ عرصے سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں، تو یہ بتائیے کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعہ سے کیا پایا۔
وہ تعریفی کلمات بولتے رہے، لیکن وہ متعین طور پر یہ نہ بتا سکے کہ انھوں نے الرسالہ کے مطالعہ سے کیا اخذ کیا ہے۔ میں نے اُن سے بار بار کہا کہ کہ آپ کوئی متعین مثال دیجیئے، تاکہ میں سمجھ سکوں کہ آپ نے الرسالہ کو پڑھ کر اُس سے کیا اخذ کیا ہے، مگر اصرار کے باوجود وہ ایسی کوئی ایک بات بھی نہ بتا سکے۔ آخر میں انھوں نے اپنے بیگ سے اپنے مدرسہ کا ایک چھپا ہوا اشتہار نکالا اور کہا کہ ہم یہ مدرسہ تعمیر کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس مدرسے کی تعمیر میں آپ بھی اپنا کچھ زرِ تعاون عطا کریں۔
یہ اندازِ گفتگو آج کل بہت زیادہ عام ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے دل میں کچھ ہوگا، مگر اپنی زبان سے وہ کچھ اور بات بولیں گے۔ اسی کو بات بنانا کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ طریقہ اتنا زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کوئی استثناء نظر آئے گا۔
بناوٹی انداز میں بات کہنے کا یہ کلچر بلاشبہ اسلام کی اسپرٹ کے خلاف ہے۔ سچا مومن وہ ہے جوصاف گو ہو، جو باتوں کو اُسی طرح کہے جس طرح کہ وہ ہیں، جس کے سوچنے اور بولنے میں کوئی فرق نہ ہو۔ ایسے ہی لوگ سچے مومن ہیں۔ بناوٹی باتیں کرنا، تکلف کی بولی بولنا ہے، اور صحابہ کہتے ہیں کہ: نُهينا عن التكلف (صحیح البخاری، كاب الاعتصام، باب ما يكره من كثرة السؤال ) یعنی ہم کو تکلف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ تکلف کا انداز دراصل ایک قسم کی منافقت ہے، اور منافقت کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues