Al-Risala · February 2010 · page 23

2010ء، فروری، رسالہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۳

اسلام کے نام پر غیر اسلام (Islamization of non-Islam)

مذہب کی تاریخ کا یہ ایک عام ظاہرہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مذہب کی اصل تعلیم گم ہو جاتی ہے اور خود ساختہ چیزوں کو مذہب کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ مثلاً مسیحیت (Christianity) دو ہزار سال پہلے حضرت مسیح کی تعلیمات پر مشتمل تھی۔ آج مسیحیت ایک ایسے مذہب کا نام ہے جس کو مسیحی چرچ نے بعد کے زمانے میں بطو ر خود وضع کیا۔

ٹھیک یہی معاملہ خود مسلمانوں کے ساتھ بھی بعد کے زمانے میں پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر مسلمانوں کو اس خطرہ سے متنبہ کر دیا تھا۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ: لتتبعن سنن من كان قبلكم (البخاري، كتاب الاعتصام، باب قول النبي لتتبعن) یعنی تم لوگ ضرور پچھلے مذہبی گروہوں کی پیروی کروگے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا: بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أن الإسلام بدأ غريباً) یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور بعد کو وہ پھر اجنبی ہو جائے گا۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام بعد کے زمانے میں معدوم ہو جائے گا۔ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ چناں چہ ایسا نہ کسی اور مذہب کے ساتھ ہوا، اور نہ اسلام کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام کا اصل متن (text) اگر چہ محفوظ رہے گا، لیکن مسلمان عملی طور پر غیر اسلام کو اپنا دین بنا لیں گے۔ ایک لفظ میں، اس معاملے کو اسلامائزیشن آف آن اسلام (Islamization of un-Islam) کہا جا سکتا ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ نے اسلام کے ابتدائی تین أدوار کے بارے میں فرمایا کہ مسلمان ان تین ادوار تک خیر پر قائم رہیں گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: خير أمتي قرني، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم (البخاري، كتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبي) یعنی سب سے بہتر مسلمان میرے دور کے مسلمان ہیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں، پھر وہ لوگ جو اس کے بعد آئیں۔ ان تین ادوار کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues

Printed page