2010ء، فروری، رسالہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۴
قرون مشہود لہا بالخیر‘ کہا جاتا ہے۔ وہ تین دور یہ ہیں ـــــ دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مذکورہ تین دوروں تک مسلم نسلیں کم وبیش، اصل اسلام پر قائم رہیں۔ اس کے بعد اُن کے درمیان بگاڑ شروع ہوا۔ اس بگاڑ کی فکری بنیاد عباسی خلافت کے زمانے میں پڑی۔ بعد کے زمانے میں جو فکری انحرافات مسلمانوں میں پیدا ہوئے، اُن سب کا آغاز عباسی دور میں ہوا۔ یہاں ہم ان انحرافات میں سے کچھ چیزوں کا تذکرہ نمائندہ مثالوں کے طور پر کرتے ہیں۔ دارالاسلام کا نظریہ فقہاء کی اصطلاح میں دارالاسلام اُس علاقے کو کہا جاتا ہے، جہاں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو۔ اس قسم کا واقعہ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آیا۔ ہجرت کے بعد مدینہ میں اہل اسلام کی ایک شہری ریاست (city state) قائم ہوگئی۔ اس کے بعد جلد ہی پورے عرب میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہو گیا۔ لیکن پیغمبر اسلام نے مدینہ کو یا عرب کو دارالاسلام نہیں کہا۔ آپ کے بعد صحابہ اور تابعین نے بھی اس علاقے کو دارالاسلام کا نام نہیں دیا۔ دارالاسلام کی یہ سیاسی اصطلاح پہلی بار عباسی دور کے علماء اور فقہاء نے اختیار کی۔
شرعی تعریف کے مطابق، دارالاسلام کی یہ اصطلاح بلاشبہ ایک سیاسی بدعت تھی۔ جو چیز رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں نہ ہو، اُس کو دین کے نام پر اختیار کرنا بدعت ہے۔ اور دار الاسلام کی اصطلاح وضع کرنے کے بارے میں ایسا ہی ہوا۔
یہ کوئی سادہ بات نہ تھی۔ جن علاقوں کو دارالاسلام کہا گیا، اُن کو اگر مسلمانوں کے زیرِ قبضہ علاقہ (Muslim occupied land) کہا جاتا تو وہ صرف ایک سیاسی مسئلہ ہوتا، نہ کہ اعتقادی مسئلہ۔ لیکن جب ایسے علاقے کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کو اعتقادی تقدس کا درجہ مل گیا، ایک سیاسی معاملے کو اعتقادی درجہ دینے سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، وہ سب خرابیاں مسلمانوں کے اندر پیدا ہوگئیں۔ مثال کے طور پر جب مسلمانوں کے زیرِ قبضہ علاقے کو اعتقادی حیثیت دیتے ہوئے اس کو دارالاسلام کہا گیا تو اس کے بعد فطری طور پر یہ فقہی مسئلہ بن گیا کہ جو علاقہ ایک بار دارالاسلام کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues