دار الکفر کا نظریہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
میں جس کو موجودہ زمانے میں تعمیری طریقہ کار (constructive method) کا نام دیا جاتا ہے۔ مکمل اسلام کا نظریہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایک لفظ بہت عام ہو گیا ہے، وہ یہ کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ عرب مسلمان اور غیر عرب مسلمان دونوں فخر کے ساتھ یہ لفظ بولتے ہیں۔ بظاہر یہ اسلام کی ایک خوب صورت تعریف معلوم ہوتی ہے، لیکن وہ اسلام کی ایک مبتدانہ تشریح ہے، اور ہر مبتدانہ تشریح کا نتیجہ بلاشبہ ہلاکت ہوتا ہے۔ اس تشریح کے بے اصل ہونے کا واضح ثبوت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں بھی اسلام کے لیے یہ تعبیر اختیار نہیں کی گئی کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے۔ مکمل اسلام کے اس نظریے نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صرف دو بُرے چوائس (evil choice) کا امکان باقی رکھا ہے— ایک برا چوائس یہ کہ وہ ’’مکمل اسلام‘‘ پر قائم ہونے کے لیے ساری دنیا سے مستقل طور پر لڑتے رہیں۔ کیوں کہ جب تک وہ ساری دنیا کو سیاسی اعتبار سے مغلوب نہ کر لیں، وہ اپنے مفروضہ مکمل اسلام پر قائم نہیں ہو سکتے۔ اُن کے لیے دوسرا بُرا چوائس یہ ہے کہ وہ فکری اعتبار سے تو اسلام کو مکمل نظام سمجھیں، لیکن مفاد پرستانہ ذہن کے تحت، وہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ (compromise) کر لیں۔ کیوں کہ دوسرے نظاموں سے سمجھوتہ کیے بغیر اُن کے لیے اس دنیا میں مادی فوائد کا حصول ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues