دار الکفر کا نظریہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
صورتِ حال کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان فکرِ انسانی کے عالمی دھارے (mainstream) میں شامل نہ ہو سکے، وہ عالمی فکر کے اندر ایک محدود جزیرہ بن کر رہ گئے۔
بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین نے جن غیر اسلامی نظریات کو اسلامائز کیا اور اُن کو مسلمانوں کے اندر پھیلایا، اُن میں سے ایک مہلک نظریہ وہ تھا جس کو خلافتِ ارضی کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مسلم مفکرین نے خود ساختہ طور پر اپنے لیے یہ ٹائٹل لے لیا کہ وہ خلیفہ اللہ فی الارض ہیں۔ اس طرح، مسلمان گویا کہ زمین پر خدا کے نائب ہیں۔ اُن کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے ملے ہوئے قانون کو خدا کی نیابت میں زمین پر نافذ کریں۔
خلافت کا یہ نظریہ کسی نہ کسی طور پر بعد کے زمانے کے مسلمانوں کی فکر پر چھا گیا۔ اسی کی روشنی میں دوسری چیزوں کی توجیہہ و تشریح کی جانے لگی۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں اسلام کا کلمہ ساری دنیا کے ہر گھر میں داخل ہو جائے گا۔ اس حدیث کی تشریح مذکورہ نظریہ خلافت کے تحت کی گئی اوراُس کا یہ مطلب بتایا گیا کہ آخری زمانے میں اسلام کی حکومت ساری دنیا میں قائم ہو جائے گی۔ یہ تشریح بلاشبہ ایک غیر علمی تشریح ہے، وہ سرتا سر بے بنیاد ہے۔
مذکورہ حدیثِ رسول میں کلمۂ اسلام (word of Islam) کا لفظ ہے، نہ کہ حکومتِ اسلام (rule of Islam) کا لفظ۔ اس سے واضح طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، اُس سے مراد اسلام کے کلمہ (word)، یا اُس کے پیغام کا ساری دنیا کے تمام گھروں میں پہنچ جانا ہے، نہ کہ مسلم اقتدار کا ساری دنیا میں قائم ہو جانا۔ حدیث کی مذکورہ تشریح، حدیث کا سیاسی گرن (politicization) ہے، وہ حدیث کے اصل مفہوم کی وضاحت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کمیونکیشن کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے، نہ کہ فوج کشی کے ذریعے ہونے والا واقعہ ہے۔ اس سیاسی طرزِ فکر کے بہت سے نقصانات ہیں۔ اُن میں سے ایک نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر روحانی اور تعمیری طرزِ فکر کا تقریباً کلی خاتمہ ہو گیا۔ داخلی اعتبار سے اُن کے اندر وہ طرزِ فکر موجود نہیں جس کو روحانی طرزِ فکر (spiritual thinking) کہا جاتا ہے۔ اور خارجی اعتبار سے وہ اِس طریقِ کار سے بے خبر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues