چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
کامیاب زندگی کا ایک راز یہ ہے کہ چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ نہ لیا جائے ۔ اجتماعی زندگی میں چھوٹی شکایتیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ دانش مند وہ ہے جو چھوٹی شکایتوں کو نظر انداز کرے، اور نادان آدمی وہ ہے جو چھوٹی شکایت پر مشتعل ہو جائے اور اس کی بنیاد پر انتہائی فیصلہ لینے لگے۔ اسی نوعیت کا ایک مشہور واقعہ وہ ہے جو سنڈے ٹائمس، لندن کے حوالے سے نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (17 اگست 2009) میں شائع ہوا ہے۔
لیبیا کے حکم راں معمر القذافی کے 33 سالہ بیٹے ہنی بال (Hannibal) جنیوا (سوئزرلینڈ) گئے۔ وہاں وہ ایک ہوٹل میں ٹھہرے۔ اُن کے ساتھ ان کی بیوی العین (Aline) بھی تھیں۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ہوٹل کی ایک تو نییسی ملازمہ مونا (Mona) کی کسی بات پر العین کو غصہ آگیا۔ العین نے اُس کو مارا اور دھمکی دی کہ میں تم کو ہوٹل کی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گی۔
اس واقعے کی خبر مقامی پولس کو ہوئی۔ پولس نے ہنی بال اور العین کو گرفتار کرلیا۔ اگرچہ جلدی ان کور ہا کر دیا گیا، لیکن اس واقعے کی خبر جب ہنی بال کے والد معمر القذافی کو پہنچی تو اس کو انھوں نے اپنی بے عزتی (humiliation) سمجھا، وہ سخت غضب ناک ہوگئے۔ انھوں نے سوئزرلینڈ کے خلاف کئی سخت اقدامات کئے— سوئزرلینڈ سے ہوائی سروس منقطع کرنا، سوئزرلینڈ کی کئی کمپنیوں کے لیبی دفتروں کو بند کر دینا، وغیرہ۔ حتی کہ انھوں نے کہا:
If I had an atomic bomb, I would wipe switzerland off the map. یہ واقعہ چھوٹی شکایت پر انتہائی اقدام کی ایک مثال ہے۔ اس قسم کا اقدام ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرتا ہے۔ خواہ کوئی معمولی آدمی ہو یا کوئی بڑا آدمی، کوئی بھی اس قسم کے انتہائی اقدام کے منفی نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ جلد یا بدیر آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے، لیکن بعد کو اُس کی تلافی ممکن نہیں ہوتی۔ طلاق کے واقعے سے لے کر قومی جنگ تک ، ہر معاملے میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues