چھوٹی بات پر انتہائی فیصلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶
سوال و جواب سوال آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ: ’’حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرما دیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا‘‘ (فکر اسلامی، صفحہ 153) لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطہ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے: 1 - عن عبد الله بن خباب عن أبيه قال كنّا قعوداً على باب النبی صلى الله عليه وسلم فخرج علينا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال اسمعوا، قلنا قد سمعنا، قال إنّه سيكونُ أمراء فلا تصدّقوهم بكذبهم و لا تعينوهم على ظلمهم، فإنّه مَن صَدّقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم، لم يرد عليّ الحوض (صحیح ابن حِبّان ۔ حدیث نمبر 284، صفحہ 193)
’’حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وسّلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے عرض کیا یقیناً ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے کہا یقیناً ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا، سنو، ہم نے کہا یقیناً ہم نے سُنا۔ آپ نے فرمایا، بے شک میرے بعد حکمران ہوں گے، تم ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیوں کہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں آئے گا۔ ‘‘ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمران تمھارے اوپر مسلط ہو جائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت و اعانت نہ کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2010 All issues